1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈینیئل پرل کا قاتل دراصل خالد شیخ محمد، نئی رپورٹ

ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے جرم میں جن چار افراد کو سزا سنائی گئی تھی، وہ دراصل پرل کے قاتل نہیں تھے بلکہ یہ قتل خالد شیخ محمد نے کیا تھا۔

default

ڈینیئل پرل

امریکی وال سٹریٹ جرنل سے وابستہ معروف صحافی ڈینیئل پرل کو سن 2002ء میں پاکستان کے شہر کراچی سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل سے جڑے معمہ کو حل کرنے کے لئے پرل کی دوست اور وال سٹریٹ جرنل کی سابق رپورٹر اسرا نعمانی اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر باربرا فِنمان ٹوڈ نے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔

پرل پراجیکٹ نامی اس رپورٹ کے مطابق ڈنییئل پرل کے قاتل وہ افراد نہیں، جنہیں سزا سنائی گئی تھی بلکہ ان کا قاتل نائن الیون حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی باشندہ عمر شیخ اور اس کے تین ساتھیوں نے اگرچہ ڈینیئل پرل کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی میں ساتھ دیا تھا تاہم وہ قاتل نہیں۔

خالد شیخ محمد نے ڈینیئل پرل کے قتل کا اعتراف کر رکھا ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے فورینسک شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت بھی کیا تھا کہ پرل کا قاتل خالد شیخ محمد ہی ہے۔ پرل کو قتل کرنے کی ویڈیو جاری کی گئی تھی، جس کے معائنے کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ جس شخص نے ڈینیئل پرل کو ہلاک کیا تھا وہ خالد شیخ محمد تھا۔ اگرچہ جاری کی گئی ویڈیو میں قاتل نے نقاب پہن رکھا تھا تاہم ماہرین نے قاتل کے بازو کے مطالعہ سے معلوم کر لیا تھا کہ اصل میں قاتل ہے کون۔ ان حقائق کے باوجود ابھی تک امریکی حکام خالد کے خلاف اس مخصوص حوالے سے کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔

Khalid Shaikh Mohammed

خالد شیخ محمد

تحقیقی رپورٹ کی خالق ٹوڈ نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا ہے کہ خالد شیخ محمد کے خلاف کارروائی سے نائن الیون حملوں کا کیس مزید پیچیدہ ہو جائے گا، ’امریکی حکام خالد شیخ کو ڈینیئل پرل کے قتل کیس میں شامل نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے نائن الیون کیس پیچیدہ ہو جائے گا۔‘

انہوں نے تاہم اس امید کا اظہار کیا کہ اس نئی تحیقی رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد ڈینیئل پرل کے قتل کی مناسب تحقیقات کے لئے مطالبہ زور پکڑے گا۔

اس تحقیقی رپورٹ کی تیاری کے لئے دونوں خواتین نے پاکستان جا کر خصوصی طور پر جامع تحقیق کی۔ اس تحقیق میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے بتیس طالب علموں نے بھی حصہ لیا۔ اس رپورٹ کے مطابق اغوا کارعمر شیخ ڈینیئل پرل کو آزاد کرنے کے لئے تاوان کا مطالبہ کر رہا تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ پرل کو آزاد کر دے گا۔ لیکن بعد ازاں القاعدہ نیٹ ورک کے ایک اعلیٰ رہنما خالد شیخ محمد نے ڈینیئل پرل کو اپنے قبضے میں لیا اور اس کا گلہ کاٹ دیا۔

پرل ایک یہودی تھے۔ ان کی لاش ان کے اغوا کے چار ماہ بعد ملی تھی، جسے ایک درجن ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا تھا۔ انہیں اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنی ایک تحقیقی رپورٹ کے لیے کراچی میں تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM