1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ڈینگی بخار، ہر سال ہزاروں افراد کا قاتل

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے پانچ کروڑ افراد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے تقریبا بیس ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

default

ڈینگی بخار کے باعث ہر سال بیس ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں

ڈینگی فیور پاکستان، سمیت ایشیا کے دیگر ممالک کے علاوہ افریقہ، آسٹریلیا اورشمالی امریکہ کے کئی علاقوں میں پائی جانے والی ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہر سال لاکھوں مریض مبتلا ہوتے ہیں اور اگر بروقت اور صحیح تشخیص نہ کی جائے تو مریض اس بیماری کی وجہ سے جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتا ہے۔

ڈینگی بخار یعنی ڈی ایف اور ڈینگی ہیمُرجیک بخار یعنی ڈی ایچ ایف، دونوں ایک دوسرے سے قریب ترین بیماریاں ہیں جو فلیوی وائرس سے پیدا ہونے والے انفیکشنز ڈی ای این، ون، ٹو، تھری اورفور کی صورت پیدا ہوتی ہیں۔

Tigermücke, die zu den Überträgern des Dengue-Fiebers zählt

ڈینگی فیور کا باعث بننے والا مچھر

اگر انسانی جسم ایک بار کسی ایک انفیکشن کو شکست دے دے تو پھر تمام عمر وہ وائرس جسم کو متاثر نہیں کرسکتا یعنی اگر ڈی ای این ون کو مریض کے جسم نے شکست دے دی تو پھر وہ شخص تمام عمرڈی ای این ون کا شکار نہیں ہو گا تاہم اس پر ڈی ای این ٹو، تھری اور فور حملہ کر سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ بیماری، وائرس کی حامل مادہ مچھر Aedes کے کاٹنے سے پیدا ہوتی ہے مگر متاثرہ مریض کو کاٹنے والے مچھر دوسرے افراد تک اس وائرس کی منتقلی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی یہ بیماری خون میں موجود اعتدال کو توڑ دیتی ہے اسی وجہ سے اس بیماری کو طبی ماہرین ہڈی توڑ بخار بھی کہتے ہیں۔ اگر بروقت اس بیماری پر قابو نہ پایا جایا تو یہ وائرس خون میں موجود سفید خلیوں کی تعداد انتہائی کم کردیتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر کا کم ہونا اور انسان کا صدمے کی حالت میں آجانا سامنے آتا ہے۔ عمومی تشخیص کے طور پر ایسے مریضوں کا خون کی بوتلیں لگائی جاتی ہیں اور زیادہ خراب صورت حال میں جسم میں خون کے سفید خلیے داخل کئے جاتے ہیں۔

Vorgehen gegen Dengue

کئی ممالک میں موسم گرما سے قبل سپرے اور مچھر مارنے والی ادویات کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے

اس بیماری کے شکار مریضوں کو جوڑوں کی شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے ساتھ ساتھ نزلے اور زکام کی موجودگی اس مرض کی ایک اور عمومی نشانی ہوتی ہے۔

اس مرض کا باعث بننے والے مچھر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مچھر عموما صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے اور صرف صبح اورشام کے اوقات میں کم سخت دھوپ میں جاگ کر اس وائرس کی انسانی جسم میں منتقلی کا باعث بنتا ہے۔

اس بیماری کی دریافت دوسری عالمی جنگ کے بعد 1950 میں ہوئی۔ عالمی جنگ میں کئی فوجیوں میں ایسی علامات دیکھی گئیں تھیں جو اس سے پہلے کسی عام بخار میں سامنے نہیں آئی تھیں مزید یہ کہ اس بیماری میں بخار ختم کرنے کے لئے دی جانے والی ادویات کا بھی اثر دکھائی نہیں دیا بلکہ مرض اوربڑھ گیا۔

Dengue Fieber in Honduras Spezialisten aus Kuba helfen

ہر سال پانچ کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں


آسٹریلیا کے محقیقین نے ڈینگی بخار پر قابو پانے میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ کے ماہرین بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے تعاون سے ڈینگی بخار پر قابو پانے کے لئے تحقیق میں مصروف ہیں۔ اس تحقیق کےلئے بل گیٹس نے کئی ملین ڈالرز کی امداد فراہم کی ہے۔


محققین کے مطابق بیماری پر قابو پانے کےلئے بیکٹیریا سے متاثرہ مچھروں کی عمر کو کم کرنے کےلئے اقدامات کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں مچھر مار سپرے اور دیگر کیمیکلز کے استعمال کی بجائے قدرتی طریقوں سے مچھروں کی حیاتیاتی عمر کم کی جائے گی۔ ماہرین کی ٹیم کے سربراہ پروفیسر سکاٹ اونیل نے بتایا کہ ڈینگی بخار کے وائرس زیادہ عمر کے مچھروں میں نمو پاتے ہیں اور بیماری پر قدرتی طریقے سے قابو پانے کےلئے ضروری ہے کہ ایسے مچھروں کی عمر کم کی جائے۔


یہ تحقیق جنرل سائنس نامی میگزین میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے دوران زیادہ عمر کے تقریباً 10 ہزارمچھروں پرتجربات کئے گئے۔