1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈینش خاتون سے زیادتی، بھارت میں پانچ افراد مجرم قرار

بھارت میں ایک عدالت نے پانچ افراد کو ایک ڈینش سیاح کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔ سن 2104 میں رونما ہونے والے اس واقعے نے بھارت میں خواتین کے خلاف عمومی جنسی تشدد کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھ جون بروز پیر نئی دہلی کی ایک عدالت نے پانچ افراد کو جنسی زیادتی کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔ عدالت ان مجرمان کو سزا نو جون کو سنائے گی۔

DW.COM

عدالتی ذرائع کے مطابق ان پانچوں افراد پر استغاثہ نے جرم ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے باون سالہ ڈنمارک کی ایک خاتون شہری کو نہ صرف جنسی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے لوٹا بھی۔ یہ یورپی سیاح خاتون جنوری سن 2014 میں وسطی نئی دہلی میں اپنے ہوٹل کا پتہ بھول گئی تھی جبکہ ان پانچ افراد نے اسے چاقو کے زور پر اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

جنسی ہوس کا نشانہ بننے والے ڈنمارک کی خاتون کے مطابق جب ہوٹل کا پتہ بھولنے کے بعد اس نے ان لوگوں سے پتہ دریافت کیا تو وہ اسے جھانسہ دے کر کہیں اور لے گئے، جہاں انہوں نے اس زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایڈیشنل سیشن جج رامیش کمار نے کہا، ’’میں ان تمام پانچوں ملزمان کو مجرم قرار دیتا ہوں۔ ان کو سزا نو جون کو سنائی جائے گی۔‘‘ اس جرم میں شریک دیگر تین ملزمان کے خلاف کارروائی کم عمروں کی کورٹ میں کی جا رہی ہے جبکہ ایک ملزم اس عدالتی کارروائی کے دوران ہی فوت ہو گیا تھا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جب جج نے ان ملزمان کو مجرم قرار دیا تو وہ جذبات سے عاری تھے۔ کمرہ عدالت میں ان ملزمان کا کوئی رشتہ دار بھی موجود نہیں تھا۔ اس موقع پر وکیل صفائی دنیش شرما نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فیصلہ عجلت میں سنایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے درخواست جمع کرا رکھی تھی کہ اس کیس کی تفصیلات کا سنیئر ججز مطالعہ کریں۔

Symbolbild - Proteste gegen Vergewaltigungen in Indien

بھارت میں جنسی زیادتی کے ان گنت کیسوں کی وجہ سے حکومت نے اس تناظر میں قوانین کو سخت تر بنا دیا ہے

دنیش شرما کے بقول انہیں اس درخواست پر کوئی جواب ملنے سے قبل ہی ان کے مؤکلوں کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے، ’’ہم نے ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی ہوئی ہے کہ کچھ گواہان کو عدالت میں ایک مرتبہ پھر پیش کیا جائے تاکہ ان کی شہادت پر جرح کرتے ہوئے اُن کے بیان کی تصدیق کی جا سکے۔‘‘

بھارت میں جنسی زیادتی کے نئے سخت قوانین کے تحت اجتماعی زیادتی کے جرم میں ملوث پائے جانے والوں کو کم ازکم بیس برس کی قید سنائی جا سکتی ہے۔ بھارت میں جنسی زیادتی کے ان گنت کیسوں کی وجہ سے حکومت نے اس تناظر میں قوانین کو سخت تر بنا دیا ہے۔