1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ی کے طالب بیراک اوباما نے فتح کا اعلان کر دیا

منگل کے دن ہونے والے الیکشن پرائمریز کے بعد اوباما نے اپنے حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ڈیموکریٹ پارٹی یکجا ہے اور وہ صدارتی انتخابات میں بھر پور طریقے سے حصہ لینتے ہوئے جیت کے لئے پر امید ہے ۔

default

بیراک اوباما اور ان کی اہلیہ

امریکی صدارتی امیدوار کی تلاش میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سطح پر کرائی جانے والی رائے شماری بالاخر اپنے اختتام کو پہنچی گئی ہے اور فاتح قرار پائے بیراک اوباما لیکن دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیلری کلنٹن نے باقی ماندہ صدارتی دوڑ میں شامل رہنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اس بارے میں واشنگٹن سے کرسٹینا برگ مان کا تبصرہ

بیراک اوباما اور ہیلری کلنٹن کے درمیان صدارتی امیدوار کی دوڑ ختم ہوگئی ۔

ہیلری کلنٹن نے اگر باضابطہ طور پر اس شکست کو تسلیم نہیں کیا ، تو یہ ایک الگ بات ہے ۔ فاتح کا تعین ہو چکا ہے ۔اب کوئ شخص بھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ سپر ڈیلیگیٹس جو کل بڑی تعداد میں اوباما کے کیمپ میں موجود تھے ، اب کوئ نئ راےٴ پیش کر سکتے ہیں ۔

سا بقہ خاتون اول غالباً حقیقت حال جان چکی ہیں ، لیکن وہ دستبرداری کا اعلان کسی کے کہنے پر نہیں کرنا چائتیں ۔ بہرحال انہیں اب نتائج کے آگے سر جھکا دینا چاہیے ۔ کل منگل کی شام کو اوباما نے اپنی مدمقابل امیدوار کی خدمات کی دل کھول کر تعریف کی ۔ دراصل یہ دونوں امیدواروں کی ہی ملی جلی کاوش تھی ، کہ 35 ملین امریکیوں نے ان پرائمری انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔

ہیلری کلنٹن کو اب مزید اوباما اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صبر کا امتحان نیہں لینا چاہیے ۔ اگر وہ اگست میں پارٹی کے نامزدگی اجلاس میں ایک بار پھر مقابلے میں اپنا نام پیش کرنے پر اصرار کرتی ہیں ، تو نہ صرف ان کی بلکہ پارٹی کی ساکھ کو بھی بری طرح سے نقصان پہنچے گا اور پارٹی امیدوار کے صدارتی انتخابات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔

دیکھا جائے تو کلنٹن اور اوباما کے انتخابی وعدوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ۔ دونوں عراق جنگ ختم کرنے کے حق میں ہیں ۔ ملک کے اندر صحت عامہ اور تعلیم کی سہولتوں کو بہتر بنانا چاہتے ہیں ۔ اور معیشت کو مضبوط خطوط پر استوار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ بیراک اوباما کو اب اپنے اصلی مدمقابل John McCain سےگھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ‍

انہوں نےکل شام اپنی شاندار تقریر میں امریکی عوام سے یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ ملکی مسائل پر ہمیں مل جل کر قابو پانا ہو گا ۔

ایک بات البتہ طے شدہ ہے ، کہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ایک ا فریقی نژا د امریکی شہری کو صدارتی انتخاب لڑنے کا موقع ملا ہے ، اور جس میں ان کی کامیابی کے امکانات بھی روشن ہیں ۔ صرف اسی بات پر ہی دنیا کی نظروں میں بہت سالوں بعد امریکہ کی عزت ایک بار پھر بڑھ گئ ہے ۔