1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیموکریٹس، دوڑ ختم مگر لڑائی جاری

سینیٹربرنی سینڈرز صدارتی امیدواری کے حق سے دستبردار ہو گئے ہیں اور اس طرح اب ڈیموکریٹ جماعت کی جانب سے ہلیری کلنٹن ہی واحد صدارتی امیدوار باقی بچی ہیں۔ تاہم سینڈرز کے حامی اب بھی یہ بات قبول کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

سینیٹر سینڈرز جن کا تعلق بائیں بازو سے ہے، نے اپنی صدارتی مہم میں نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور یہی وجہ تھی کہ بہت سے ایسے افراد جنہوں نے پہلے کبھی ووٹ نہیں ڈالا، وہ بھی پہلی بار سیاسی جلسوں میں شریک ہونے لگے۔

آسکر سالازار بھی ایسے ہی نوجوانوں میں سے ایک ہیں۔ 97 ڈگر فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر چلچلاتی ہوئی دھوپ میں نیویارک کے علاقے سلیپی ہولو کا یہ رہائشی 125 میل کی مسافت طے کر کے فلیڈیلفیا پہنچا ہے، جہاں وہ ایک جمپ سوٹ میں ایک درخت کی چھاؤں تلے سستا رہا ہے۔ سالازار سینیٹر سینڈرز کے انتخابی جلسوں میں اسی مخصوص لباس کے ساتھ شرکت کیا کرتا تھا۔ سینڈرز کی جانب سے ہلیری کلنٹن کے حق میں سبک دوش ہو جانے کے بعد ان کے حامیوں میں خاصی بے دلی پائی جاتی ہے۔ اپنے انتخابی جلسوں میں دونوں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خصوصاﹰ سینڈرز کلنٹن کے بڑی کاروباری اداروں اور وال اسٹریٹ کے ساتھ ماضی کے قریبی تعلقات پر شدید تنقید کرتے رہے، تاہم اب سینڈرز کا کہنا ہے کہ تمام تر اختلافات اپنی جگہ مگر کلنٹن پھر بھی ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے بہتر ہیں۔

USA - Sanders und Clinton - stronger together

سینڈرز نے کلنٹن کے حق میں دوڑ سے نکلنے کا اعلان کیا ہے

اسی تناظر میں سالازار کا کہنا ہے، ’’میں ان دو برائیوں (کلنٹن اور ٹرمپ) میں سے کسی کو بھی ووٹ نہیں دینا چاہتا۔‘‘

مگر سالازار ہی واحد نوجوان نہیں بلکہ جس تند و تیز تنقید سے بھری ڈیموکریٹ پرائمریز رہیں، ان کے نتیجے میں ڈیموکریٹ ووٹر بھی دو کمیپوں میں بٹے دکھائی دیتے ہیں۔

سالازار کا کہنا ہے، ’’پرائمریز کے دوران ہم نے دیکھا کہ ہلیری کلنٹن سب سے بڑی شیطان ہیں۔ جسے سے نمٹنا ٹرمپ سے نمٹنے سے زیادہ اشد ضروری ہے۔‘‘

سینیٹر سینڈرز ہی کی حامی ایک اور نوجوان لڑکی کارلا ریز کا کہنا ہے، ’’وہ (ہلیری کلنٹن) ایک فیصد کی نمائندہ ہیں، اب کوئی بھی جیتے، جیت وال اسٹریٹ ہی کی ہو گی۔‘‘

سینڈرز کے کئی حامیوں کو اب تک یقین نہیں آیا ہے کہ پرائمریز میں ہلیری کلنٹن سینڈرز کو شکست دے چکی ہیں۔ بعض اس پورے عمل کے دوران ’فاؤل پلے‘ یا ’بے ضابطگیوں‘ کا رونا روتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکٹرول فراڈ نے سینڈرز کی شکست کو یقینی بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کا الیکٹرول نظام درست نہیں۔

اس پر وکی لیکس پر جاری کردہ وہ بیس ہزار ای میلز بھی ہیں، جن میں ڈیموکریٹ پارٹی کی قیادت کی جانب سے ڈیلگیٹس کو کلنٹن کی حمایت کے لیے کہا گیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پرائمریز میں کلنٹن کو سینڈرز پر فوقیت دینے کی تلقین کی گئی تھی۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے یہ نیا اسکینڈل بھی کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔

تاہم یہ بات طے ہے کہ اگر ڈیموکریٹ پارٹی میں یہ ٹوٹ پھوٹ اور لڑائی جاری رہی تو اس کا حتمی فائدہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن جماعت ہی کو ہو گا۔