1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’ڈیسپریٹ ہاؤس وائیوز‘ کی ریڈ گریو چل بسیں

برطانوی اداکارہ لین ریڈگریو انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 67 سال تھی اور وہ گزشتہ سات برس سے چھاتی کے سرطان میں مبتلا تھیں۔ ان کے ترجمان نے پیر کو بتایا کہ وہ اتوار کی شب اپنے گھر پر وفات پا گئیں۔

default

ڈیسپریٹ ہاؤس وائیوز کا ایک منظر

لین ریڈگریو کی پیشہ ورانہ زندگی تقریباً 48 برس پر محیط ہے۔ ان کے اہل خانہ نے مسلسل تین نسلوں تک ’شوبز‘ کی دنیا میں حکمرانی کی۔ ان کے والد مائیکل ریڈگریو اور والد راچیل کیمپسن بھی اداکاری کے شعبے سے منسلک تھیں۔

’ڈیسپریٹ ہاؤس وائیوز‘ اور ’اَگلی بے ٹی‘ میں اپنے کرداروں سے لین ریڈگریو امریکہ میں مقبول ہوئیں۔ انہیں دو مرتبہ آسکر کے لئے نامزد کیا گیا۔

طویل القامت اور سرخ بالوں والی اس اداکارہ کو پہلی مرتبہ 1966ء میں ’جارجی گَرل‘ میں ان کے کردار کے لئے آسکر نامزدگی ملی۔ اس ایوارڈ کی دوسری نامزدگی انہیں 1988ء میں ’گوڈز اینڈ مانسٹرز‘ کے کردار پر ملی۔ ان دونوں فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے پر انہیں گولڈن گلوب ایوارڈ ملے۔

انہیں اپنے کیریئر میں تین مرتبہ ٹونی ایوارڈ، دو مرتبہ ایمی اور ایک مرتبہ گریمی ایوارڈ کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔

فلمی حلقوں نے ان کی موت پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ہدایت کار مائیکل وِنر کا کہنا ہے کہ وہ ایک پرجوش اور ورسٹائل ادکارہ تھیں، جو ہر کردار بخوبی نبھال سکتی تھیں۔ برطانوی ٹیلی وژن کی معروف شخصیت مائیکل پارکنسن نے کہا کہ لین کو بہترین اداکارہ ہونا ہی تھا، اداکاری تو ان کے خون میں شامل تھی۔

Die Oscar Statue

لین ریڈگریو کو دو مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا

’’شوبز سے تعلق رکھنے والے برطانیہ کے معروف خاندان کے لئے یہ ایک نیا صدمہ ہے۔‘‘ ابھی تین ہفتے پہلے ہی ان کے بڑے بھائی معروف اداکار کورِن کی موت ہوئی۔ گزشتہ برس ان کی بھتیجی فلمسٹار نتاشا رچرڈ سن کینیڈا میں سکینگ کے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

لین ریڈگریو کی ویب سائٹ پر ان کے بچوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا، ’ہماری عزیز والدہ لین راچیل سات برس چھاتی کے کینسر میں مبتلا رہنے کے بعد چین کی نیند سو گئی ہیں۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ کینسر کی تشخیص کے بعد انہوں نے اور بھی زیادہ محبت دکھائی، محنت کی اور بھرپور زندگی گزاری۔

لین کے بچوں کا کہنا ہے، ‘’ایک ماں، دادی، نانی، مصنفہ، اداکارہ اور دوست کے طور پر انہوں نے جو ناقابل فراموش یادیں چھوڑیں ہیں، زندگی بھر ہمارے ساتھ رہیں گی۔‘‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM