1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیرہ غازی خان دھماکہ، کشیدگی برقرار

جمعرات کے روز ماتمی جلوس پر ہونے والے خود کش بم دھماکے کے بعد ڈیرہ غازی خان میں صورت حال کشیدہ ہے۔

default

دھماکے کے بعد سے اب تک شہر میں کشیدگی پائی جاتی ہے

جمعہ کے روز مشتعل مظاہرین نے دینی مدرسوں اور نجی عمارتوں پر پتھراؤکیا جبکہ ایک پولیس چوکی کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے پولیس کی اضافی نفری طلب کر لی گئی۔ میانوالی، جھنگ اور لاہور سمیت ملک کے کئی دیگر علاقوں میں بھی ڈیرہ غازی خان کے سانحے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی نماز جنازہ سخت ترین حفاظتی انتظامات کے دوران ادا کی گئی۔ ہلاک ہونے والوں کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کر دی گئی ہے۔

نماز جنازہ میں شریک عثمان نامی ایک نوجوان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ تین دن کے لئے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور تین دن تک مارکٹیں بند رہیں گی اور آج تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند رہے ہیں۔ عمومی طور پر لوگ گھروں سے باہر بھی نہیں نکلے۔ ان کے مطابق سڑکیں ویران اور سنسان تھی عام آدمی خوف محسوس کر رہا ہے اور اب بھی بہت زیاد ہ ڈرا ہوا ہے۔

اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں سرکاری طور پر متفر ق اعداد و شمار بتائے جا رہے ہیں تاہم غیر جانب دار حلقے کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 32 تک پہنچ چکی ہے۔

Anschlag vor Moschee in Pakistan

اس دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد تیس سے زائد ہو چکی ہے جب کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں

پولیس نے ایک کالعدم مذہبی تنظیم کے کارکنوں سمیت دو درجن کے قریب افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔ تفتیش کرنے والے بعض پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ابتدا ئی شواہد کے مطابق خود کش بمبار قبائلی علاقوں کا رہائشی معلوم ہوتا ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان مبارک اطہر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ تحقیقات میں جو پیش رفت ہے اس میں سپیشل ٹیمیں بنائی گئی ہیں اور اس کے لئے سی آئی ڈی کے افسران لاہور سے پہنچ چکے ہیں اور ڈی جی خان سے بھی اچھی شہرت اور تجربہ رکھنے والے افسران کو تفتیشی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موقع واردات سے خود کش بمبار کا سر مل گیا ہے اور اسے قبضہ میں لے کر ڈی این اے کے ٹیسٹ کی سیمپلنگ کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق خود کش بمبار کی عمر تقریباً بیس سال کے قریب ہے اور اس نے چھوٹی چھوٹی داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے۔

ادھر پنجاب اسمبلی نے بھی ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ڈیرہ غازی خان پر ہونے والے خود کش بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔