1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اور خودکش دھماکہ

صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں جنازے پر کئے گئے خودکش حملے کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک جب کہ 180 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

default

دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا

دھماکہ کے بعدمشتعل افراد نے شہر بھرمیں ہنگامے شروع کر دئیے، ہوائی فائرنگ کی اور متعدد گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا۔ جس پر انتظامیہ نے فوج طلب کرکے شہر میں کرفیو نافذ کیا اورتمام داخلی اور خارجی راستے بند کرکے شرپسندوں کودیکھتے ہی گولی مارنے کاحکم دے دیا۔

خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب گزشتہ روز قتل ہونے والے مقام امام بارگاہ کے متولی شیر زمان کاجنازہ کوٹلی امام بارگاہ کے قریب پہنچا۔ اس جنازے میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ شریک تھے۔ موقع پر موجود مقامی صحافی کاظم رضا کا کہنا ہے کہ یہ اک خود کش دھماکہ تھا۔

ایک لڑکا دوڑتا ہوا جنازے کے جلوس میں داخل ہوا اور خود کو دھماکہ سے اڑا دیا زیادہ تر لوگوں نے اس کے جسم کے حصے ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھے۔

ڈیرہ اسماعیل خان صوبہ سرحد کا جنوبی شہر ہے جس کی سرحدیں قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان اور پنجاب کے شہر بھکر سے ملتی ہیں۔ وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں قبائلی نقل مکانی کرکے ڈیرہ میں رہائش اختیار کرچکے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان فرقہ ورانہ فسادات کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔ گزشتہ سال اکیس نومبر کو بھی قتل ہونے والے شاہد اقبال کے جنازے میں خودکش حملہ کیاگیا تھا اس حملے میں 10افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Anschlag in Pakistan

اس واقعہ میں 150 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی رابطہ آفیسر محسن شاہ کاکہنا ہے کہ ’’ ہنگاموں کوروکنے کیلئے شہر میں کرفیو نافذ کیاگیا ہے جو 3 روز تک نافذ رہے گا شہر میں امن تباہ کرنے والے کو گولی مارنے کاحکم دے دیاگیاہے اس سے قبل محرم انتہائی پرامن طریقے سے گذرا ہے۔ پولیس نے شہر میں سیکیورٹی بھی بڑھائی تھی تاہم اس واقع کی تحقیقات کاحکم دے دیا گیا ہے اورجو بھی اس میں ملوث پایاگیا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔‘‘

تاہم ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ہونیوالے قومی اسمبلی کے ڈپٹی پیکر فضل کریم کنڈی سیکورٹی اقدامات سے مطمئن نہیں ہے اورانہوں نے سرحد حکومت کوغفلت برتنے والے افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کا کہا ہے۔ فضل کریم کنڈی کا کہناہے کہ’’ اس واقعہ کی تحقیقات کرائیں گے اور سیکیورٹی میں غفلت برتنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کرتے ہوئے افسران کو معطل کریں گے کیونکہ سب کچھ غیرمعیاری سیکیورٹی کی وجہ سے رونما ہوا جس کی ہم کسی کو اجازت نہیں دیتے ‘‘۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی 17لاکھ سے زیادہ ہے تاہم اس بڑی آبادی کی سیکیورٹی کے لئے پولیس کی تعداد 535 ہے جو ایک عرصہ سے 24گھنٹے ڈیوٹی کرنے کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ کشیدگی کی وجہ سے گومل یونیورسٹی نے جاری امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان خودکش حملے سے دو ہفتہ قبل اس کے سرحدی علاقے اور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہونے والے خودکش حملے میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم آج تک ہونے والے دھماکوں میں نہ توکسی کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکی اورنہ ہی گرفتار ہونے والے کسی ملزم کو سزادی جاسکی۔