1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈھاکہ میں طلبا کے خلاف پولیس کارروائی، متعدد افراد زخمی

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس کو مقامی یونیورسٹی کے سینکڑوں مشتعل طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آج اتوار کو لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ آنسو گیس بھی استعمال کرنا پڑی۔

default

احتجاج کی وجہ ایک طالبعلم کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت بنی

ملکی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق شہر کی مرکزی یونیورسٹی کے بہت سے طلبا اسی لیے احتجاج کر رہے تھے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ان کا ایک ساتھی ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

Dhaka Bangladesch 14 von 19

ڈھاکہ میں سکیورٹی گشت کرنے والے پولیس اہلکار

امریکی نیوز ایجنسی اے پی نے بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق بہت بڑی تعداد میں مشتعل طلبا نے شہر میں پتھراؤ کرنے کے علاوہ بہت سی گاڑیوں کو نقصان پہنچانا بھی شروع کر دیا تھا۔ اس پر حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور آنسو گیس کے شیل بھی فائر کرنا پڑے۔

جہانگیر عالم نامی ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ڈھاکہ میں تشدد کے ان واقعات میں کئی طلبہ زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کارروائی سے قبل توڑ پھوڑ پر اتر آنے والے طلبا نے اپنے احتجاج کے دوران بہت سی نجی گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔

ڈھاکہ کی مرکزی یونیورسٹی کے طلبا کی طرف سے یہ پر تشدد احتجاج اتور کو صبح سویرے اس وقت شروع ہوا تھا، جب ایک 25 سالہ طالبعلم رضوان احمد ایک مقامی ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔

مختلف خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق ڈھاکہ میں احتجاجی طلبا کے خلاف آج کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد صورت حال اب کافی حد تک پر سکون ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس