1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈھاکا حملے کا ماسٹر مائنڈ ایک کینیڈین شہری، پولیس

ڈھاکا کے ایک کیفے میں رواں ماہ کیے گئے خونریز دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ سازی کرنے والوں میں ایک بنگلہ دیشی نژاد کینیڈین شہری تمیم چوہدری بھی شامل تھا، جو تین سال قبل وطن لوٹا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بنگلہ دیشی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یکم جولائی کو ڈھاکا کے ایک مشہور کیفے میں کیے گئے حملے کا ماسٹر مائنڈ ایک کینیڈین شہری تھا۔

DW.COM

اس تحقیقاتی عمل میں شامل ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ تمیم چوہدری تین برس قبل ہی وطن لوٹا تھا اور اس نے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔

ڈھاکا کے اس کیفے پر پانچ حملہ آوروں کی کارروائی کی وجہ سے بیس افراد مارے گئے تھے، جن میں سے اٹھارہ غیر ملکی تھے۔ ڈھاکا پولیس نے اس کارروائی کے لیے کالعدم تنظیم ’جمیعت المجاہدین بنگلہ دیش‘ کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ گو کہ اس کارروائی کی ذمہ داری جہادی تنظیم داعش نے قبول کی تھی لیکن بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے۔

بنگلہ دیش میں حالیہ کچھ برسوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں لبرل دانشور شخصیات، بلاگرز اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ رواں ماہ ہی عید کی نماز کے دوران ایک حملہ آور نے فائرنگ کر کے تین افراد کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔ جب یہ کارروائی کی گئی تھی تو اس وقت وہاں ڈھائی لاکھ افراد عید کی نماز ادا کر رہے تھے۔

ہفتہ تیس جولائی کے دن پولیس نے کہا کہ حکام کو ایسے تازہ شواہد ملے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے ڈھاکا کے کیفے پر حملے اور نماز عید کے موقع پر فائرنگ کی کارروائی کا ماسٹر مائنڈ تمیم چوہدری ہی تھا۔ تاہم پولیس کو یہ معلوم نہیں کہ دوہری شہریت کا حامل تمیم اس وقت کہاں ہے؟

اس اعلیٰ پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس (تمیم چوہدری) نے ایسے انتہا پسندوں کو تربیت فراہم کی، جنہوں نے ان دونوں حملوں میں کردار ادا کیا۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’تمیم بالخصوص نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے کام کرتا ہے‘۔ پولیس یہ جاننے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ آیا تمیم کا داعش کے ساتھ بھی کوئی رابطہ تھا؟

Screenshot IS-Propaganda Video Bangladesh Terror

پولیس یہ جاننے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ آیا تمیم کا داعش کے ساتھ بھی کوئی رابطہ تھا؟

ایک اور پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ تمیم کے ان کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں شواہد اس وقت ملے، جب پولیس نے ایک حالیہ چھاپے میں ایک مشتبہ شخص رقیب الحسن کو گرفتار کیا۔ اس اہلکار نے کہا کہ پچیس سالہ حسن نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا کہ تمیم ان جنگجوؤں سے ملتا رہتا تھا اور وہ ان کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ مشاورت بھی کرتا تھا۔

پولیس نے گزشتہ منگل کے دن ہی کلیان پور میں جنگجوؤں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تھا، جہاں نو جنگجوؤں کو ہلاک بھی کر دیا گیا تھا۔ اس دوران مشتبہ جنگجو رقیب الحسن گرفتار کر لیا گیا تھا۔ رقیب نے پولیس کو بتایا ہے کہ سبھی جنگجوؤں کی تربیت کا کام تمیم نے ہی کیا تھا۔ رقیب نے مزید کہا کہ تمیم جنگجوؤں کو نہ صرف جہاد کی ترغیب دیتا تھا بلکہ انہیں اسلحہ بھی فراہم کرتا تھا۔