1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘

محققین کا کہنا ہے کہ اب بہتر روزگار کے لیے دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم ایک کڑی شرط بنتی جارہی ہے جبکہ امریکہ میں آنے والے برسوں میں دو تہائی نوکریوں کے لیے کالج کی ڈگری لازم ہوجائے گی۔

default

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں تعلیم اور افرادی قوت کے مرکز میں کی گئی تحقیق کے مطابق گریجویٹس افراد کی مجوعی کمائی ڈگری سے محروم افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینیئرنگ کے شعبوں کے گریجویٹس کی آمدن سب سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے تعلیم و فنون کے دیگر شعبوں کے گریجویٹس کی تنخواہیں قدرے کم بتائی گئیں۔

تحقیق کے شریک مصنف اینتھونی کارنیوالا کے بقول، ’ سب سے زیادہ کمائی پیٹرولیم میں ماسٹرز ڈگری رکھنے والوں نے کی ہے مگر عمومی طور پر کوئی بھی ماسٹرز ڈگری، جس کی بنیادیں ریاضی پر قائم ہوں بہت زیادہ کمائی کا وسیلہ بنتی ہے‘۔

تحقیق کے مطابق 70ء کی دہائی میں محض 28 فیصد نوکریوں کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت پڑتی تھی مگر آئندہ سات برسوں میں محض امریکہ کے اندر 63 فیصد نوکریوں کے لیے کالج کی ڈگری ناگزیر ہوں گی۔ کارنیوالا اور ان کے ساتھیوں سٹیفن روز، بین چیاح اور دیگر نے اس تحقیق کے لیے ڈگری رکھنے والے اور ڈگری سے محروم افراد کی عمر بھر کی کمائی، تعلیم کے معیار، عمر، جنس اور پیشے سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

Öl Arbeiter Ölarbeiter Wasser Bahrain Persischer Golf

پیٹرولیم کے شعبے میں اب بہت وسعت کی گنجائش موجود ہے

رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا کے بیروزگار افراد میں نصف سے زائد کے پاس کوئی ڈگری نہیں جبکہ بقیہ ایسے ہیں جن کے پاس کوئی نہ کوئی ڈگری ہے۔ تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اوسط بنیادوں پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والی خواتین کی اجرت بیچلر ڈگری کے حامل مردوں کے برابر ہوتی ہے۔ اسی طرح سفید فارم امریکیوں کے مقابلے میں سیاہ فارم اور لاطینی نژاد امریکیوں کی تنخواہیں بھی کم ہیں۔

اس تحقیق کی مالی معاونت کرنے والے خو دمختار ادارے لومینا فاونڈیشن کے مطابق امریکہ میں 25 تا 34 برس کے گریجویٹس کی تعداد اب کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہوگئی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

.

DW.COM