1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ڈچ شہری پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ کریں گے! کیا سچ مچ؟

ہالینڈ میں مہاجرین کو پناہ دیے جانے کے بارے میں عمومی رائے کی تبدیلی کی خاطر دو صحافیوں نے سمارٹ فونز کے لیے ایک ایپ تیار کی ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ہالینڈ میں پناہ دیے جانے کا عمل انتہائی سخت ہے۔

ہالینڈ میں مہاجرین کو پناہ دینے کا عمل کیا ہےِ؟ ایسے افراد کو کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟ یہ واضح کرنے کی خاطر دو ڈچ صحافیوں نے ایک سمارٹ فون ایپلیکیشن تیار کی ہے۔

اس ایپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے طریقہ کار کو انتہائی ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس میں فرضی مہاجرین کو پناہ کا حقدار قرار دیے جانے سے قبل ان سے سخت سوالات پوچھے جاتے ہیں۔

اس ایپ The Detailed Interview کے صارفین شام اور گنی جیسے ملکوں کے غیر حقیقی مہاجرین سے پوچھے جانے والے سوالات کا انتخاب کرتے ہیں، جیسا کہ وہ اپنے ممالک کو چھوڑ کر ہالینڈ کیوں آئے اور انہیں کیا مسائل تھے؟

اس ایپ میں صارفین ہی حکومتی اہلکاروں کا کردار ادا کرتے ہیں اور جوابات موصول ہونے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ ان مہاجرین کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی جائیں یا انہیں پناہ کا حق دار قرار دے دیا جائے۔

اس ایپ میں البتہ ان کرداروں کی طرف سے، جو بطور مہاجرین سوالات کے جواب دیتے ہیں، مہیا کی جانے والی معلومات اصلی مہاجرین کے حقیقی انٹرویوز سے حاصل کی گئی ہوتی ہیں۔

اس ایپ کے خالق ایمسٹرڈم کے دو صحافی لُڈو ہیکمان اور کلاس فان ڈیکنز کا کہنا ہے کہ وہ اس تاثر کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہالینڈ میں مہاجرین کو آسانی سے پناہ دے دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ان کے ملک میں مہاجرین کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہیکمان کے بقول اس ایپ کے لانچ کیے جانے کے بعد سے اب تک دس ہزار صارفین اسے استعمال کر چکے ہیں۔

Serbien Ungarn Verstärkerung der Grenzkontrollen

یورپ کو مہاجرین کے ایک بڑے بحران کا سامنا ہے

ٹامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے ہیکمان نے کہا، ’’ہالینڈ کے متعدد اخبارات کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں مہاجرین کو آسانی سے پناہ مل جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اصل میں کسی کو پناہ کا حق دار قرار دینے کا عمل نہ صرف مشکل بلکہ بہت پیچیدہ بھی ہے۔

ہالینڈ کے قواعد و ضوابط کے مطابق پناہ کے متلاشی افراد کو ملکی سلامتی اور انصاف کی وزارتوں کے حکام کو کم از کم دو دو انٹرویوز دینا ہوتے ہیں۔ ہالینڈ میں اپریل سن دو ہزار سولہ تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس سے پہلے کے بارہ ماہ کے دوران چھیالیس ہزار تارکین وطن اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے تھے۔