1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈچ جہادیوں کی ملک ممکنہ واپسی، دہشت گردی کا خطرہ بڑھتا ہوا

ہالینڈ میں انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے خبر دار کیا ہے کہ اگر عسکریت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ کو عراق میں شکست کاسامنا ہوتا ہے تو ہالینڈ میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

Irak Kampf um Mossul (picture-alliance/dpa)

شام اور عراق میں اب بھی ایک سو نوے ڈچ شہری موجود ہیں

ہالینڈ میں ’انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے آج بروز پیر چودہ نومبر کو دہشت گردی کے تازہ ترین جائزے میں حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’خلافت‘ کی دعوے دار جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ شکست سے ہمکنار ہوتی ہے  یا  ختم ہو جاتی ہے تو ہالینڈ لوٹنے والے جہادی جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو سو ستّر کے قریب ڈچ جہادی ہالینڈ سے شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے گئے تھے جن میں سے چالیس سابق جنگجوؤں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ جنگ میں حصہ لینے کے بعد ہالینڈ واپس آچکے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر عسکریت پسند شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔

 ہالینڈ کی انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نو برس سے زائد عمر کے بچوں اور خواتین سمیت شام اور عراق میں اب بھی ایک سو نوے ڈچ شہری موجود ہیں۔ جبکہ چوالیس ڈچ جنگجو جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق ہالینڈ میں دہشت گردانہ کارروائی کا اصل خطرہ موجود ہے۔ سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے ڈچ رابطہ کار زار ڈِک شُووف نے ہالینڈ کے سرکاری ریڈیو سے بات چیت میں بتایا کہ اب ہالینڈ واپس آنے والے ممکنہ جہادی سخت جان جنگجو ہوں گے۔ شووف نے مزید کہا،’’ انہوں نے جانتے بوجھتے ایک شدت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ واپس لوٹنے پر اُنہیں فوراﹰ گرفتار کیا جائے گا۔‘‘

خیال رہے کہ یورپی ملک ہالینڈ کی خفیہ ایجنسی ’جنرل انٹیلیجنس اور سکیورٹی سروس‘ کی گزشتہ برس ستمبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہالینڈ میں مذہبِ اسلام کا بنیاد پرست سلفی عقیدہ فروغ پا رہا ہے۔

 رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دوسرے یورپی ملکوں کی طرح ہالینڈ کے بھی بنیاد پرستانہ عقیدے کے حامل نوجوان جہادی نظریات سے متاثر ہو کر مسلح سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ بیشتر ڈچ نوجوان عراق اور شام میں سرگرم جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی صفوں میں شامل ہیں۔

DW.COM