1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ڈپریشن میں مبتلا ماؤں کے بچے کم وزنی یا کمزور نشوونما کا شکار

ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں ڈپریشن کا شکار ماؤں کے بچوں میں کم وزنی یا کمزور نشوونما کا شکار ہونے کا امکان 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

default

عالمی ادارہ صحت کے بلیٹن میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق غریب ملکوں میں 15 سے 57 فیصد مائیں غربت، ازدواجی تنازعات، گھریلو تشدد اور اقتصادی وسائل پر اختیار نہ ہونے کے باعث ڈپریشن کا سامنا کرتی ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے، ’’ترقی پذیر ملکوں میں ماؤں کے ڈپریشن یا ڈپریشن کی علامات اور بچوں کی کمزور نشوونما کے درمیان مثبت یا غیر معمولی تعلق ظاہر ہوا ہے۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ سخت ڈپریشن کا شکار ماؤں کے بچوں میں زیادہ کمزور نشوونما دیکھی گئی ہے۔

یہ تجزیہ افریقہ، ایشیا، جنوبی امریکہ اور کریبیئن کے ملکوں میں تقریباﹰ 14 ہزار ماؤں اور ان کے چھوٹے بچوں پر کیے گئے 17 تحقیقی مطالعوں پر مبنی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے موازنہ کرنے کے لیے ترقی یافتہ ملکوں میں ماؤں کے ڈپریشن کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔

بچپن میں ناکافی نشوونما کا نتیجہ بلوغت میں چھوٹے قد، کمزور تعلیمی کارکردگی، کم تولیدی صلاحیت اور بیماری کے زیادہ خطرات کی صورت میں نکلتا ہے۔

Kenia Blinde in Afrika

ڈپریشن کا شکار ماؤں کے بچے کم وزنی یا کمزور نشوونما کا شکار ہو سکتے ہیں

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے بلومبرگ اسکول برائے صحت عامہ کی محقق پامیلا سرکن نے ایک بیان میں کہا، ’’ماں کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا نتیجہ بچے کی کم نگہداشت اور چھاتی سے دودھ نہ پلانے یا مختصر مدت کے لیے پلانے کی صورت میں نکلتا ہے۔‘‘ تاہم ترقی پذیر ملکوں میں سماجی نظام، گروپ تھیراپی یا گھروں میں انفرادی کوششوں سے بھی اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

ان اقدامات کے ذریعے چین، جمائیکا، پاکستان، جنوبی افریقہ اور یوگنڈا میں ماؤں کے ڈپریشن کی علامات میں کمی لانے میں مدد ملی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماں کی ذہنی صحت اور بچے کی صحت کے درمیان بھی تعلق ہو سکتا ہے۔ بچے کی کمزور صحت سے بھی ماں میں ڈپریشن کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM