1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ڈو مور‘ کے مطالبے کا وقت گزر چکا، اعزاز چوہدری

وزیر اعظم نواز شریف کی امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کے خد و خال امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں نمایاں ہوگئے۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں مستقبل کے حوالے سے افغانستان، پاکستانی معیشت اور دہشتگردی کے خلاف پیش بندی ملاقات کا اہم جزو ہوگی۔

واشنگٹن میں وزیر اعظم نواز شریف اور جان کیری کی ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرنے کا وقت گزر چکا اور امریکا نے بھی وزیر اعظم سے ڈو مور کا مطالبہ نہیں کیا۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکا کا جوہری معاملات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ امریکا نے پاکستان کے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات میں وزیر اعظم نے بھارت کی طرف سے کراچی، بلوچستان اور فاٹا میں مداخلت کے دستاویزی ثبوت پیش کیے۔

اعزاز چودھری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے اشرف غنی سے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا: ’’افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بہت نقصان اٹھایا ہے، ضرب عضب پر ایک عشاریہ نو ارب ڈالر خرچ کرچکے ہیں اور پرعزم ہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔‘‘

تجزیہ کاروں کی رائے میں وزیر اعظم نواز شریف کی صدر بارک اباما سے ملاقات کے حوالے سے بہت سے باتیں جان کیری اور وزیر اعظم کی ملاقات میں طے ہوگئی ہیں۔ پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب مسعود خان کہتے ہیں کہ دونوں رہنماؤں کی دو سال قبل ہونے والی ملاقات میں جو اہداف طے ہوئے تھے ان میں سے کچھ پر پیش رفت ہوئی ہے جبکہ تازہ ملاقات مستقبل کے حوالے سے نئے اہداف بھی طے ہوں گے۔

Pakistan - Premierminster Nawaz Sharif

جان کیری سے ملاقات میں پاکستانی وزیر اعظم نے بھارت کی طرف سے کراچی، بلوچستان اور فاٹا میں مداخلت کے دستاویزی ثبوت پیش کیے

مسعود خان کے مطابق، ’’امریکا کا رویہ مثبت ہے۔ امریکا 14 برس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت کے خلاف ثبوت دینا بہت اہم ہے کیونکہ امریکا نے دہشتگردی کے خلاف اتحاد بنایا ہے اور اس کا فرض ہے کہ جہاں بھی دہشت گردی ہو وہ کارروائی کرے۔ لیکن بھارت کے خلاف صرف امریکا کو ثبوت دینا ہی کافی نہیں۔ بھارت کا بھی واشنگٹن اور نیویارک میں اثر و رسوخ ہے۔ پاکستان نے نئی سفارتی جنگ کا آغاز کیا ہے اور کامیابی کے لیے مسلسل کوشش کرنا ہوگی جبکہ امریکا کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے راضی کرے۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی کوشش ہے کہ اس دورے کے دوران امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے۔ پاک امریکا بزنس فورم سے خطاب میں وزیر اعظم نے پاکستان کا اقتصادی وژن پیش کیا اور اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی ہو۔ امن و امان اور معیشت کی بہتری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا، ’’پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے پرکشش منڈی بن گیا ہے۔ حکومت کا ہدف 2017ء تک توانائی بحران کا خاتمہ ہے۔‘‘

امریکا میں مقیم معاشی تجزیہ کار اظہر باٹلہ نے وزیراعظم کے خطاب کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ خطاب میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے کوئی پرکشش اسکیم یا پیکج نہیں دیا گیا: ’’ زیادہ بہتر ہوتا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس حوالے سے تیاری کر کے آتے اور وزیر اعظم کسی ایسی سہولت کا اعلان کرتے جو امریکی سرمایہ کاروں کے لیے نئی اور اچھوتی ہوتی۔‘‘