1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ڈوپنگ کے خلاف سخت جرمن قانون نافذ، دس سال تک سزائے قید

جرمنی میں کھیلوں کے شعبے میں ڈوپنگ کے خلاف نیا سخت قانون نافذالعمل ہو گیا ہے، جس کے تحت ممنوعہ ادویات استعمال کرنے والے کھلاڑیوں کو تین سال اور ڈوپنگ کے اصل محرک افراد کو دس سال تک کی سزائے قید سنائی جا سکے گی۔

وفاقی دارالحکومت برلن سے جمعہ اٹھارہ دسمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق آج بروز جمعہ سے نافذالعمل ہونے والے اس قانون کی منظوری پہلے جرمن ایوان زیریں بنڈس ٹاگ اور پھر ایوان بالا بنڈس راٹ نے دی تھی، جس کے بعد جرمن صدر یوآخم گاؤک نے اس قانون پر دستخط بھی کر دیے تھے۔

جرمنی میں کھیلوں کا شعبہ وفاقی وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کے وزارتی قلمدان کا حصہ ہے، جنہوں نے اس بارے میں ڈی پی اے کو بتایا، ’’اس قانون کی تیاری اور نفاذ کافی عرصے سے ضروری ہو چکے تھے۔ اب کئی اہم قانونی شقیں نافذالعمل ہو گئی ہیں۔‘‘

تھوماس ڈے میزیئر نے مزید کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ اس نئے اور سخت تر قانون کے ساتھ ہم کھیلوں کے شعبے میں ڈوپنگ اور اس کے پیچھے کارفرما مجرمانہ ڈھانچوں کا کامیابی سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘ جرمن وزیر داخلہ کے مطابق، ’’یہ قانون صاف ستھرے اور منصفانہ کھیلوں کے لیے جرمنی کے واضح عزم اور پختہ ارادے کا مظہر ہے۔‘‘

اس قانون کے تحت جو کھلاڑی ڈوپنگ کرتے ہیں یا اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے مرتکب ہو رہے ہیں، ان پر نہ صرف پابندیاں لگائی جا سکیں گی، بلکہ ان کے خلاف جرمن عدالتوں میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ایک سال سے لے کر تین سال تک قید کی سزائیں بھی سنائی جا سکیں گی۔

اس کے علاوہ جو سپورٹس آفیشلز یا ممنوعہ ادویات کی فراہمی اور ان سے متعلق طبی نسخوں لکھنے کا کام کرنے والے افراد یا طبی اہلکار اس جرم کے مرتکب پائے گئے، انہیں شدید نوعیت کے واقعات میں دس سال تک کے لیے جیل جانا پڑے گا۔

جرمنی میں یہ قانون اور اس کا نفاذ سول قوانین کے شعبے میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔ اس سے پہلے ڈوپنگ کی روک تھام کا کام کھیلوں کے نگران ادارے اور قومی سطح کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کرتے تھے۔

Symbolbild Doping

یہ قانون صاف ستھرے اور منصفانہ کھیلوں کے لیے جرمنی کے واضح عزم اور پختہ ارادے کا مظہر ہے، تھوماس ڈے میزیئر

اس بارے میں اولمپک کھیلوں کی جرمن تنظیموں کی قومی فیڈریشن DOSB نے نئے قانون کے نفاذ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھیلوں کے شعبوں میں متعلقہ تنظیموں کی کلی عملداری کے حوالے سے ان کی آزادی اور خود مختاری سے متصادم ہے۔

اس کے برعکس وفاقی جرمن وزیر قانون ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ اس قانون کا نفاذ اس لیے لازمی ہو گیا تھا کہ اس سلسلے میں صرف کھیلوں کی نگران قومی تنظیموں کی عمل داری کھلاڑیوں کو ڈوپنگ سے روکنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی تھی۔