1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈوٹیرٹے مجھ سے بدلہ لے رہے ہیں، خاتون سینیٹر

فلپائن کی خاتون سینیٹر لائیلا ڈے لیما کو صدر رودریگو ڈوٹیرٹے کی سب سے بڑی ناقد کہا جاتا ہے۔خاتون سینیٹر کو منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

خاتون سیاستدان سینیٹر لائیلا ڈے لیما کو سینیٹ میں واقع ان کے دفتر سے آج جمعے کی علی الصبح حراست میں لیا گیا۔ گرفتاری سے کچھ دیر قبل صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے لیما نے کہا کہ منشیات فروشی کا الزام انہیں خاموش کرانے کے لیے لگایا گیا ہے اور وہ بے قصور ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے صدر ڈوٹریٹے کو سماج دشمن قاتل قرار دتے ہوئے کہا کہ صدر کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی ، ’’یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ایک ایسے جرم کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے، جس کے انسداد کے لیے میں خود بھی سرگرم ہوں۔ میرے لیے دعا کیجیے گا۔‘‘ الزام ثابت ہونے کی صورت میں انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ستاون سالہ لیما کی گرفتاری کے وارنٹ جمعرات کے روز ہی جاری کر دیے گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے سینیٹ کے اپنے دفتر میں پناہ لی تھی۔ ان کے بقول،’’وہ مجھے نہ تو خاموش کرانے کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور نہ ہی روزانہ ہونے والے قتل کے واقعات کے حوالے سے سچائی سامنے لانے سے روک سکیں گے، میں ڈوٹیرٹے حکومت کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والوں کو انصاف دلانے کی کوشش کرتی رہوں گی۔‘‘

اسی طرح انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بھی فلپائن کے عام شہریوں سے ڈوٹیرٹے کی انسداد منشیات کی مہم کے خلاف مزاحمت کرنے کی درخواست کی ہے۔ ڈوٹیرٹےآٹھ ماہ قبل فلپائن کے سربراہ مملکت بننے تھے اور اس کے بعد سے اب تک ساڑھے چھ ہزار افراد اس مہم کے دوران ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

 لیما کے بقول، ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا صدر ایک سلسلہ وار سماج دشمن قاتل ہے‘‘۔ ڈے لیما انسانی حقوق کی کمشنر بھی رہی ہیں اور اس دوران وہ ڈوٹیرٹے کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو سامنے بھی لاتی رہی ہیں۔ ڈوٹیرٹے پر الزام ہے کہ جب وہ داواؤ کے میئر تھے تو ان کے دور میں منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام میں سینکڑوں افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔