1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی ریلی سے مسلم خاتون نکال باہر

ایک مسلمان خاتون کو امریکی صدارتی انتخابات کے معروف رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک انتخابی ریلی سے خاموش احتجاج کرنے پر باہر نکال دیا گیا۔

امریکی صدارتی امیدواری کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مہم زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں اپنے ایک حالیہ متنازعہ بیان کی وجہ سے انہیں امریکی سیاسی حلقوں کے علاوہ امریکا کی مسلمان برادری کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار، ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا تھا، کہ جب تک قوم کے رہنما یہ طے نہ کر لیں کہ ’در اصل معاملہ کیا ہے‘، امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ ’مکمل طور پر‘ بند کیا جائے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ’ امریکا میں مسلم آبادی کا بڑا حصہ امریکیوں سے نفرت کرتا ہے‘‘۔

جمعے کی شب امریکی ریاست نارتھ کیرولائینا میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے کہ ہیڈ اسکارف پہنے ایک مسلمان خاتون ہال میں داخل ہوئی اور اُس پوڈیم کے پاس جا کر خاموشی سے کھڑی ہو گئی جس پر کھڑے ٹرمپ خطاب کر رہے تھے۔ خاتون نے ایک سبز شرٹ پہن رکھی تھی جس پر درج تھا،’’Salam, I come in Peace‘‘.

USA Präsidentschaftswahl Kanditat der Republikaner Donald Trump

ٹرمپ اپنی سیاسی مہم کے دوران بارہا مسلمانوں کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں

ا

س ہال میں تمام شرکاء نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے تاہم 56 سالہ سابقہ فلائیٹ اٹینڈنٹ روز حامد خاموشی سے پوڈیم کی طرف مُنہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ اس ایونٹ کا فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ کے حامیوں نے اس خاتون کو ہال سے باہر نکال دیا۔ اس دوران وہ ٹرمپ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

روز حامد نے بتایا کہ عرب پتی رپبلیکن امیدوار ٹرمپ کے ایک سپورٹر نے اُس کے مُنہ کے سامنے چیخ چیخ کر کہنا شروع کردیا، ’’تمہارے پاس بم ہے، تمہارے پاس بم ہے۔‘‘ روز حامد نے سی این این کو بیان دیتے ہوئے کہا، ’یہ ساری صورتحال نہایت ناخوشگوار اور خوفناک ہو گئی‘‘۔

سی این این کے مطابق روز حامد اور چند دیگر افراد کو ہال سے نکالے جانے کے بعد ٹرمپ نے سی این این کو بیان دیتے ہوئے کہا، ’ہمارے خلاف ناقابل یقین نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ نفرت اُن کی طرف سے ہے، ماری طرف سے نہیں۔‘‘

ڈونلڈ ٹرمپ، جو وائٹ ہاؤس کے لیے رپبلکن امیدوار کی حیثیت سے اپنی انتخابی مہم میں سر کردہ ہیں، کچھ عرصہ پہلے اپنے اُن بیانات کی وجہ سے عالمی سطح پر تنقید اور دنیا اسلام میں غم و غصے کی آگ کو بھڑکانے کا سبب بنے تھے، جس میں انہوں نے امریکا میں مسلمانوں کی آمد پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ بیانات کیلیفورنیا میں ایک انتہا پسند مسلمان جوڑے کی طرف سے 14 افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد دیے تھے۔

Symbolbild - Muslime in den USA

امریکی مسلمانوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے

دریں اثناء مسلمانوں کی وکالت کرنے والے گروپCAIR نے ٹرمپ کی ریلی سے مسلم خاتون کو نکالے جانے کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کو بیان دیتے ہوئے اس کونسل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نہاد آواد کا کہنا تھا، ’’ایک سیاسی ریلی میں ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بد کلامی اور بد سلوکی کرنے اور اُسے باہر نکالنے کا ایمیج امریکی مسلمانوں کو سیخ پا کرنے کا موجب بنے گا۔‘‘

گزشتہ نومبر میں پیرس کے دہشت گردانہ حملوں اور کیلیفورنیا کے مقام سان برنارڈینو کے حملے کے بعد سے امریکی مسلمانوں کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

DW.COM