1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا چینی صدر کو خیرسگالی کا خط

ڈونلڈ ٹرمپ نے آخرکار چینی صدر شی جن پنگ کو نئے چینی قمری سال کے آغاز پر نیک تمناؤں کا خط تحریر کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس خط میں چین کے ساتھ تعمیری تعلقات کو فروغ دینے کا ذکر بھی کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد سے یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ وہ کب روسی و یورپی لیڈروں کی طرح چینی صدر سے بھی رابطہ کریں گے لیکن ان کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا۔ اب تقریباً تین ہفتوں کے بعد ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ کو ایک خط تحریر کیا ہے اور اُس میں جہاں انہوں نے نئے چینی قمری سال کے شروع ہونے پر چینی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا ذکر کیا وہاں بیجنگ حکومت کے ساتھ تعمیری تعلقات کو فروغ دینے کی بات بھی کی۔

روسی و یورپی لیڈروں کی طرح امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر ابھی تک گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اِس خط کے بارے میں کہا گیا کہ یہ چینی لیڈر کی جانب سے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے کی مبارک باد کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ اِس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ  امریکی صدر نے چین کے صدر شی جنگ پنگ کے ساتھ تعمیری تعلقات کو فروغ دینا کی خواہش کا اظہار کیا تا کہ چینی و امریکی عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔

China Lu Kang in Peking (picture-alliance/Kyodo)

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لُو کانگ

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لُو کانگ نے امریکی صدر کی جانب سے چینی عوام کے لیے نئے قمری سال پر بھیجی جانے والی نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی معمول کی پریس کانفرنس میں ایسے سوالوں کو بےمعنی قرار دیا جن کا تعلق ٹرمپ کے چینی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو نہ کرنے سے تھا۔ لُو کانگ نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ کے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد سے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان رابطے مسلسل استوار رہے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بیجنگ حکومت امریکا کے ساتھ عدم مسابقت اور باہمی احترام پر تعلقات کو فروغ دینے کے علاوہ ایسے تعاون کو آگے بڑھانے کو ترجیح دے گی جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ حاصل ہو سکے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازعات کو کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ ساتھ چینی امریکی تعلقات کو عظیم تر اقتصادی و سماجی ترقیاتی سرگرمیوں سے وابستہ کرنا ضروری ہے۔