1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈونلڈ ٹرمپ امريکی صدر نہيں بنيں گے، باراک اوباما

امريکی صدر باراک اوباما نے کيليفورنيا ميں تقرير کے دوران صدر کی نامزدگی کی دوڑ ميں شامل ری پبلکن سياست دانوں، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقيد کا نشانہ بنايا ہے۔

امريکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اب بھی يہی سمجھتے ہيں کہ اگلے امريکی صدر کی دوڑ ميں شامل ری پبلکن پارٹی کے اميدوار ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب نہيں ہوں گے۔ انہوں نے کہا، ’’اس کی وجہ يہ ہے کہ مجھے امريکی عوام پر کافی اعتماد ہے۔ ميرے خيال ميں وہ جانتے ہيں کہ صدر بننا ايک سنجيدہ کام ہے۔‘‘ اوباما نے يہ بيان دس جنوب مشرقی ايشيائی ملکوں کے رہنماؤں کے ساتھ ايک سمٹ کے موقع پر امريکی رياست کيليفورنيا ميں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چيت کرتے ہوئے منگل اور بدھ کی درميانی شب ديا۔ انہوں نے مزيد کہا، ’’يہ کسی ٹيلی وژن پروگرام کی ميزبانی يا حقيقت پر مبنی شو نہيں اور نہ ہی پروموشن ہے يا مارکيٹنگ کی نوکری۔ صدر بننا کافی مشکل کام ہے۔‘‘

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 69 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی اميدواروں کی فہرست ميں ری پبلکن جماعت کی جانب سے کافی عرصے سے سر فہرست ہيں۔ اسی ماہ انہيں آئيوا ميں سينيٹر ٹيڈ کروز کے ہاتھوں پرائمری اليکشن ميں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم نيو ہيمپشائر ميں وہ کامياب رہے۔ امريکی رياست ساؤتھ کيرولائنا ميں انہيں کروز پر سولہ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے اميدوار ڈونلڈ ٹرمپ

ری پبلکن پارٹی کے اميدوار ڈونلڈ ٹرمپ

امريکا ميں آئندہ امريکی صدر کا انتخاب اس سال آٹھ نومبر کو ہو گا۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے موجودہ صدر باراک اوباما نے صرف ٹرمپ کو ہی نہيں بلکہ ديگر ری پبلکن سياست دانوں کو بھی تنقيد کا نشانہ بنايا۔ انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف جذبات کو ہوا دے رہے ہيں ليکن اگر اس پر نظر ڈالی جائے کہ ديگر ری پبلکن اميدوار کيا بيانات دے رہے ہيں، تو وہ بھی کافی پريشان کن ہیں۔‘‘ اوباما کے مطابق تمام اميدوار موسمياتی تبديليوں کو رد کر رہے ہيں اور يہ بات بين الاقوامی برادری کے ليے کافی پريشان کن ہے۔

سياسی مخالفين کے ليے ايک اور چيلنچ کے طور پر اوباما نے ايک مرتبہ پھر اصرار کيا کہ وہ سپريم کورٹ کے سابق جسٹس انٹونين اسکيليا کے جاں نشين کا انتخاب کريں گے اور کہا کہ ری پبلکنز پر يہ ذمہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی مخالفت نہ کريں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے ميں آئين بالکل واضح ہے، جب سپريم کورٹ کی کوئی کرسی خالی ہوتی ہے، تو امریکی صدر کسی کو نامزد کرتا ہے۔