1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے حوالے سے کون سی پالیسی اپنائیں گے؟

افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر جان نکلسن کے مطابق انہیں اپنا مشن جاری رکھنے کے لیے آئندہ برس بھی کم از کم بارہ ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے لیکن کیا ڈونلڈ ٹرمپ ان کا یہ مطالبہ مانیں گے؟

افغانستان میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن  ایک’فوجی مشیر‘ ہیں اور واشنگٹن کی نئی قیادت کو وہ صرف اپنی خواہشات اور مطالبات سے ہی آگاہ کر سکتے ہیں۔ جرمن دارالحکومت برلن میں منگل کی شام ان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’کامیابی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ موجودہ اسٹریٹیجی کو جاری رکھا جائے۔‘‘

امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ افغانستان میں کیا کریں گے۔ ابھی تک وہ افغانستان کے حوالے سے متضاد رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے؟

اکتوبر کے آغاز میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کا سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان میں خود کو مصروف رکھنا ایک ’سنگین غلطی‘ ہے۔ اس بیان کے چند روز بعد ہی ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’افغانستان میں موجود رہنا ضروری ہے۔‘‘

افغانستان میں اس وقت تیرہ ہزار بین الاقوامی فوجی اہلکار تعینات ہیں اور ان میں سے نو ہزار آٹھ سو امریکی ہیں۔ باراک اوباما کے منصوبے کے مطابق سن دو ہزار سترہ تک ان کی تعداد آٹھ ہزار چار سو تک کم  ہو گی۔ کمانڈر جان نکلسن کا ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کم فوجیوں کی وجہ سے انہیں ابھی سے مشکلات کا سامنا ہے، ’’بہتر ہوگا کہ نیٹو فوجیوں کی تعداد بڑھا کر پندرہ ہزار کر دی جائے۔‘‘

کیا افغانستان میں حکمت عملی تبدیل ہو گی؟

افغان فوجیوں کی تعداد تین لاکھ ہے لیکن ان میں سے اکثر کے پاس غیر تسلی بخش ہتھیار ہیں اور ان کے حوصلے ابھی سے پست ہیں۔ ہر بڑی لڑائی میں انہیں امریکی فوجیوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ اب نیٹو فوجی ایک نئی حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کے مطابق افغانوں کو دفاعی سطح پر کھیلنا ہو گا۔ دیہاتوں میں موجود چیک پوسٹوں کے نیٹ ورک کو ختم کرتے ہوئے اپنی طاقت کو اس طرح جمع کرنا ہو گا کہ طالبان کو ہدف بنا کر تیزی سے نشانہ بنایا جا سکے اور اس دوران افغان فوجیوں کو نیٹو دستوں کی مدد بھی حاصل رہے۔

جان نکلسن کے مطابق ان کی اسی حکمت عملی کی وجہ سے رواں برس طالبان کسی بھی بڑے شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب اسی حکمت عملی کی وجہ سے طالبان جنوب میں لشکر گاہ، وسط میں ترین کوٹ اور شمال میں قندوز تک پہنچ چکے ہیں اور ان شہروں پر قبضے کی لڑائی جاری ہے۔ دیہاتوں میں چیک پوسٹیں ختم کرنے کی وجہ سے طالبان شہروں کی سرحدوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور ان کے زیر کنٹرول علاقوں کی تعداد سن دو ہزار ایک کے بعد اس وقت سب سے زیادہ ہے۔

تاہم جان نکلسن یہ بھی کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں۔ انہیں امید ہے کہ طالبان کے کچھ گروپ مذاکرات مخالف طالبان سے الگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا طالبان کے ایسے گروپوں کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہو گی، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

امریکا میں قائم  ولسن سینٹر سے منسلک افغان امور کے ماہر مائیکل کوگل مین کے مطابق ٹرمپ کی افغان طالبان کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں کوئی پرواہ نہیں ہے، ’’ٹرمپ میں صبر کی کمی ہے۔‘‘

کوگل مین کے مطابق ٹرمپ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو قائم رکھیں گے لیکن انخلاء کے اوقات کار میں تیزی لے آئیں گے، ’’ میرا نہیں خیال کہ ٹرمپ ایسی موجودگی رکھنے کے حق میں ہیں، جس کا کوئی اختتام نہ ہو۔‘‘