1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ڈومینک سٹراؤس کاہن نے خاموشی توڑ دی

ڈومینک سٹراؤس کاہن نے جنسی زیادتی کے الزامات واپس لیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ اس واقعے پرکوئی بیان دیا ہے۔ انہیں مئی میں نیویارک کے ایک ہوٹل کی ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

default

'یہ ایک اخلاقی غلطی تھی اور میں اس پر بہت شرمندہ ہوں‘ یہ وہ الفاظ تھے، جو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ سٹراؤس کاہن نے اپنے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں ادا کیے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کاہن نے نیو یارک کے سوفیٹل ہوٹل میں ہونے والے واقعے کے بارے میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی ہے۔ تقریباً 20 منٹ طویل اس انٹرویو میں کاہن نے کہا کہ وہ نہ صرف اپنی وفادار بیوی اور اپنے بچوں بلکہ پوری فرانسیسی قوم سے معذرت خواہ ہیں۔

14مئی کو ہوٹل کی ملازمہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر انہیں بے حد افسوس ہے۔ ’’ ان سات منٹوں کے دوران جوکچھ بھی ہوا اس میں کوئی زور زبردستی شامل نہیں تھی‘‘۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

Dominique Strauss-Kahn

یہ ایک اخلاقی غلطی تھی اور میں اس پر بہت شرمندہ ہوں

 گزشتہ مہینے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ پرجنسی زیادتی کے عائد الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ سٹراؤس کاہن اور ہوٹل کی ملازمہ دیالو کے مابین یہ تعلق دونوں کی رضامندی سے قائم ہوا تھا۔ اس سے قبل براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والی نفیستودیالو نے الزام عائد کیا تھا کہ سٹراؤس کاہن نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔

Kahbang Edith Walla

نفیستودیالو نے الزام عائد کیا تھا کہ کاہن نے اس کے ساتھ زبردستی کی تھی۔

اس حوالے سے سٹراؤس کاہن کا کہنا تھا کہ سوفیٹل ہوٹل میں ہونے والے واقعے پر انہیں فخر نہیں ہے بلکہ وہ صرف شرمندگی سے ان کی گردن جھک گئی ہے۔ ’’ میں اپنے دوستوں، گھروالوں اور ان سب افراد سے معافی مانگتا ہوں، جو مجھ سے فرانس کے اگلے سربراہ مملکت کے طور پر امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔‘‘

ڈومینیک سٹراؤس کاہن نے اس اسکینڈل کے سامنے آتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے وہ اس بارے میں سوچ کر ہی فیصلہ کریں گے۔ کاہن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خواتین اور سیکس ان کی کمزوری ہیں، تاہم ان کاکہنا کہ نیویارک میں پیش آنے والے اس واقعے نے انہیں تبدیل کر دیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان

 

DW.COM

ویب لنکس