1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈوسلڈورف میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کےمقدمے کی سماعت

جرمنی کے صوبے نارتھ رائن ويسٹ فيليا کے دارالحکومت ڈوسلڈورف ميں آج دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام ميں چار افراد کے خلاف مقدمے کی عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔

default

فرٹس گيلووچ نے کھل کردہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کر ليا ہے

دوملزمان کے اقبالی بيانات کے مطابق انہوں نے پاکستان کے ايک کيمپ ميں دہشت گردی کی تربيت حاصل کی اور وہ جرمنی ميں امريکی فوجيوں پر حملے کرنا چاہتے تھے۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ويسٹ فيليا کی عدالت ميں دہشت گردی کے الزام ميں چار ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی، وقت مقررہ سے ايک گھنٹے بعد شروع ہوسکی۔ اس کی وجہ يہ تھی کہ پريس کے نمائندوں اور تقريبا ايک سو حاضرين کو بہت کڑی تلاشی کے بعد ہی اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

ملزموں نے تقريباً دو ماہ قبل ہی اعتراف جرم کا اشارہ دیا تھا۔ استغاثہ کے سرکاری وکيل برنکمن نے کے مطابق : ’’ملزمان نے اعتراف کيا ہے کہ انہوں نے جرمنی ميں تعينات امريکی فوجيوں کو زيادہ سے زيادہ تعداد میں ہلاک کرنے کا منصوبہ بنايا تھا۔ ہم نے اپنی تفتيش کے دوران ہی يہ معلوم کر ليا تھا کہ ملزمان کے مقاصد کيا تھےاوراب انہوں نے اپنے اقبالی بيانات ميں بھی اس کا اعتراف کرليا ہے۔‘‘

Deutschland Terror Sauerland Prozess der Angeklagte Adem Yilmaz und Daniel Schneider

ملزموں نے تقريبا دو ماہ قبل ہی اعتراف جرم کا اشارہ دیا تھا

آج مقدمے کی کارروائی کے آغاز میں ہی، مبينہ طور پر گروپ کے قائد فرٹس گيلووچ اپنا بيان شروع کرنا چاہتے تھے، ليکن عدالتی بينچ کے سربراہ جج نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام متعلقين کے لئے تعريفی کلمات ادا کئے۔ جج اوٹماربرائڈلنگ نے اس سلسلے ميں انسداد جرائم کے وفاقی محکمے کے تحقيقاتی افسران، وکلائے صفائی اور خاص طور پر ملزمان کا ذکر کيا۔ عدالتی ترجمان ايگر نے اس کی وجہ بيان کرتے ہوئے کہا : ’’عدالتی بينچ کے سربراہ نے يہ واضح کيا کہ ملزموں کے اقبالی بيانات بہت تفصيلی ہيں، اس قدر تفصيلی کہ اس قسم کے کسی مقدمے ميں ابھی تک ايسا ديکھنے ميں نہيں آيا تھا۔ سربراہ جج ان بيانات کی تفصيلات سے بہت متاثر تھے۔ اب يہ ديکھنا ہے کہ ان بيانات کی کس حد تک تصديق ہو سکے گی اور يہ کس حد تک دوسرے تحقيقاتی نتائج سے مطابقت رکھتے ہيں۔‘‘

ملزمان کے اقبالی بيانات تقريبا ايک ہزار چارسو صفحات پر پھيلے ہوئے ہيں۔ فرٹس گيلووچ نے بھی کھل کردہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کر ليا ہے۔ ان کے وکيل اوڈن کا کہنا ہے: ’’ميرے مؤکل نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے تربيتی کيمپ ميں مشين گن چلانے اور ٹينک شکن ميزائل پھينکنے کی تربيت حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہيں پاکستانی اور سوويت ساخت کے ہينڈگرينيڈز استعمال کرنے اور بم بنانے کی نظرياتی تربيت بھی دی گئی۔‘‘

ملزمان پر اسلامی جہاد يونين کی ايک جرمن شاخ کی بنياد ڈالنے کا الزام ہے۔

انتيس سالہ گيلووچ نے بتايا کہ وہ جنوری 2000 ميں دوسرے ملزموں آدم يلماز اور عتلاسيليک کے ساتھ حج کرنے گئے تھے اور وہيں انہوں نے دہشت گردوں سے رابطہ قائم کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس کے بعد وہ عربی زبان سيکھنے شام گئے اور پھر ايک رابطہ کارندے کے ذريعہ استنبول سے ہوتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے ميں پہنچے، جہاں اسلامی جہاد يونين کا تربيتی کيمپ تھا۔ وہاں تين ماہ کی تربيت کے بعد ان کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ جہاد ميں شرکت کے بجائے جرمنی جائيں اور وہاں حملوں کا منصوبہ بنائيں۔

رپورٹ: Höke Martin / شہاب احمد صدیقی

ادارت : امجد علی