1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈورٹمنڈ بس حملہ ’دہشت گردی‘ نہیں تھی، مبینہ حملہ آور گرفتار

جرمن پولیس نے جمعہ اکیس اپریل کی صبح ایک ایسے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے، جو ڈورٹمنڈ بس حملے میں ملوث ہو سکتا ہے۔ بوروسیا ڈورٹمنڈ فٹ بال کلب کی بس پر حملہ رواں مہینے کی گیارہ تاریخ کو کیا گیا تھا۔

جرمن پولیس نے جنوب مغربی ریاست باڈن وُورٹمبرگ کے ایک شہرٹیُوبِنگن میں چھاپہ مار کر ایک اٹھائیس سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کو شک ہے کہ یہ شخص ڈورٹمنڈ فٹ بال کلب کی بس پر حملے میں ملوث ہو سکتا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ بس پر حملے کے پیچھے مالی منفعت حاصل کرنے کی حریصانہ سرگرمیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں کہا جا رہا ہے کہ حملہ آور کا محرک دہشت گردی نہیں بلکہ غالباً محض لالچ تھا۔

جرمنی کے وفاقی استغاثہ نے گرفتار ہونے والے کا نام سیرگئی ڈبلیو بتایا ہے۔  پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والا روسی اور جرمن شہریت رکھتا ہے۔  سیرگئی ڈبلیو کو جن الزامات کا سامنا ہے، ان میں اقدام قتل، دھماکے کرنے اور انسانی جسموں کو شدید نقصان پہنچانا شامل ہیں۔ اس مناسبت سے جرمن دفترِ استغاثہ مزید تفصیل جمعہ اکیس اپریل کی شام میں جاری کرنے والا ہے۔

Dortmund - nach der Explosion am Bus - Sicherheit im Stadion (Getty Images/AFP/P. Stollarz)

جرمن پولیس نے ڈورٹمنڈ فٹ بال کلب کی بس پر حملے کے مبینہ ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے

پولیس کے مطابق سیرگئی ڈبلیو ڈورٹمنڈ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا اور اُسی نے بس کے راستے میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا۔ جرمن دفتر استغاثہ کے مطابق یہ شخص بوروسیا ڈورٹمنڈ کے حصص کی قیمتوں میں گراوٹ لانے کی کوششوں میں بھی تھا۔

سیرگئی ڈبلیو ڈورٹمنڈ فٹ بال کلب کے پندرہ ہزار حصص کو پہلے سے طے شدہ کم قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش میں بھی تھا اور اگر ایسا ہو جاتا تو کلب کو خاصا بڑا مالی نقصان ہو سکتا تھا۔ دفتر استغاثہ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ایک کھلاڑی کے دھماکے میں زخمی ہونے سے اسٹاک مارکیٹ میں فٹ بال کلب کے شیئرز میں کمی کا قوی امکان تھا۔

گیارہ اپریل کو ڈورٹمنڈ کلب کے کھلاڑیوں کو لے کر جانے والی بس کو کم از کم تین ہلکے دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان دھماکوں میں ایک کھلاڑی سمیت دو افراد زخمی ہوئے تھے۔اس حملے کی ذمہ داری شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان پر تفتیش کرنے والے اداروں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔