1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ڈوبتے مہاجر بچوں پر مگرمچھ کے آنسو، یورپی یونین منافق‘

یونانی وزیر اعظم الیکسِس سپراس نے یورپی یونین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی یورپی قیادت کا حصہ ہونے پر شرمندہ ہیں، جو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’منافقت‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

الیکسِس سپراس کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کا ممبر ہونے پر شرمندہ ہیں۔ سپراس کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک مہاجرین کے حالیہ بحران کے دوران ’ذمہ داری لینے سے بھاگ‘ رہے ہیں اور سمندر میں ڈوبنے والوں بچوں پر وہ محض ’مگرمچھ کے آنسو‘ بہا رہے ہیں۔

سپراس نے مہاجرین کے بحران کے حوالے سے پورپی ممالک کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یونانی پارلیمان کو بتایا کہ ان کا ملک سمندری راستوں سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے مہاجرین کی زندگیاں بچانے کے لیے یونین سے ’ایک یورو‘ کی بھی امداد نہیں چاہتا۔ اس کے برعکس دیگر یورپی ممالک مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ابھی تک مخمصے کا شکار ہیں۔

رواں ہفتے کے دوران خطرناک سمندری راستے کے ذریعے ترکی سے یونان پہنچنے کی کوشش میں 35 سے زائد مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ ترکی کے پناہ گزین کیمپوں میں مقیم شام اور دیگر شورش زدہ ملکوں سے آئے ہوئے بیشتر پناہ گزین موسم سرما کے آغاز سے قبل جلد از جلد یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ اس صورت حال میں حکام کو اندیشہ ہے کہ بحیرہ ایجئین میں ہلاک ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یونانی پارلیمان سے خطاب کے دوران سپراس کا کہنا تھا، ’’میں ایسی یورپی قیادت کا حصہ ہونے پر شرمندہ ہوں، جو اس انسانی المیے سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور جو ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

یونان گزشتہ برسوں سے خود مالی بحران کے شکار ہے۔ رواں برس کے آغاز سے اب تک پانچ لاکھ ستر ہزار سے زائد پناہ گزین یونان پہنچ چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر مغربی یورپی ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

’یورپی یونین کی منافقت‘

سپراس کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض یورپی ممالک‘ یونان پر الزام لگاتے ہیں کہ یونان یورپ کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہیں کر رہا، وہ ممالک اس عالمی قانون سے نا واقف ہیں جو سمندر میں ڈوبنے والے انسانوں کی زندگی بچانے کو لازمی قرار دیتا ہے۔

یونانی وزیر اعظم نے یونین کے باقی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا، ’’یہ منافق ہیں جو بحیرہ ایجئین کے ساحلوں پر ڈوبنے والے بچوں پر تو ٹسوے بہاتے ہیں لیکن زندہ بچ جانے والے ہزاروں کی تعداد میں مہاجر بچے، جو یورپی ممالک کی سڑکوں پر رہ رہے ہیں، انہیں کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔‘‘

یونان پہلے سے مالی بحران کا شکار ہے اور اسے مجبوراﹰ کچھ عرصہ قبل ہی تیسرا عالمی بیل آؤٹ پیکج لینا پڑا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کے باعث یونان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

Griechenland Flüchtlinge bei Lesbos

بحیرہ ایجئین کے ذریعے یونان پہنچنے کی کوشش میں اب تک ہزاروں پناہ گزین ہلاک ہو چکے ہیں۔

سپراس کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور ترکی کے مابین پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے مراکز قائم کرنے اور ترک ساحلوں پر موثر گشت شروع کرنے کے بارے میں مذاکرات اہمیت کے حامل ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ترکی کے ساحلوں پر مہاجرین کو سمندری راستہ اختیار کرنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ پناہ گزین خطرناک سمندری راستہ اختیار کر کے اپنی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

انسانی زندگی کی قیمت

مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے گزشتہ اتوار کے روز برسلز میں ہونے والی یورپی یونین کے ممالک کی کانفرنس کے دوران یونان نے پچاس ہزار پناہ گزینوں کو عارضی طور پر اپنے ملک میں رکھنے کا معاہدہ کیا تھا۔ رواں ہفتے یونانی وفاقی وزیر برائے مہاجرین نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو یونان میں عارضی طور پر روکنے کے لیے ان کے ملک کو یورپی یونین کی جانب سے مالی معاونت کی ضرورت ہے۔

تاہم سپراس کا کہنا ہے کہ یونان لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کسی اور سے پیسے نہیں لے گا۔ رواں ہفتے میں صرف جمعرات اور جمعے کے دن یونان نے 30500 سے زائد مہاجرین کو بحفاظت بحیرہ ایجئین سے نکالا ہے۔

حزب اختلاف کے ایک رکن پارلیمان نے جب سپراس سے پوچھا کہ مہاجرین کو عارضی پناہ دینے کے عوض یونان کو کیا ملے گا؟ سپراس نے جواباﹰ کہا، ’’یونان مالی بحران کا شکار ہے، ہم غریب لوگ ہیں، لیکن ہم اپنی اقدار اور انسانیت کو نہیں بھُولے۔ ہمارے ساحلوں پر ڈوبتے ہوئے لوگوں کی زندگیاں بچانا ہمارا فرض ہے اور اس فرض کی تکمیل کے لیے ہم کسی سے ایک روپے کے بھی طلب گار نہیں۔‘‘

یورپی یونین کے ممالک سے مخاطب ہوتے ہوئے سپراس کا کہنا تھا، ’’میں یونین کے ان ممالک سے مخاطب ہوں جو یونان پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ یونان انسانی زندگیوں کی قیمت مقرر نہیں کرے گا۔‘‘