1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈوئچے ویلے گلوبل میڈیا فورم کا آغاز

ڈوئچے ویلے کے زیر انتظام چوتھے گلوبل میڈیا فورم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ ’انسانی حقوق اور عالمگیریت، میڈیا کے لیے چیلنجز‘ کے عنوان سے ہونے والے اس عالمی فورم کا افتتاح ڈوئچے ویلے کے سربراہ ایرک بیٹرمان نے کیا۔

ایرک بیٹرمان

ایرک بیٹرمان

جرمنی کے سابق دارالحکومت بون میں 20 سے 22 جون تک ہونے والے اس تین روزہ عالمی اجتماع میں میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے قریب 1300 افراد شریک ہیں۔ ان مندوبین کا تعلق دنیا کے 100 ممالک سے ہے۔

گلوبل میڈیا فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کے ڈائریکٹر جنرل ایرک بیٹرمان نے عرب دنیا کے عوام کو خراج عقیدت پیش کیا، جو اپنے حق رائے دہی اور حق آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

سیاست، تجارت، تعلیم اور میڈیا کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے قریب ایک ہزار سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بیٹرمان نےذرائع ابلاغ کے حوالے سے تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں سوشل میڈیا کی اہمیت باور کراتے ہوئے کہا: ’’ذرائع ابلاغ انسانی حقوق کو عملی شکل دینے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر فیس بُک، ٹویٹر اور بلاگز جیسے سوشل نیٹ ورکنگ کے ذرائع نے معلومات کی ترسیل کو نئی جہت اور تحریک دی ہے۔ یہ ذرائع احتجاجی تحریکوں کو کامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘

ایک سیشن میں شریک پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ ڈاکٹر الطاف اللہ خان

ایک سیشن میں شریک پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ ڈاکٹر الطاف اللہ خان

یورپی یونین ایجنسی برائے بنیادی حقوق کے ڈائریکٹر Morten Kjaerum نے آزادی اظہار سے متعلق انسانی حقوق کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’یہ حقوق انسان کے بنیادی حقوق ہیں، جو کسی بھی قانون سے بالاتر ہیں۔ آزادی اظہار کا تعلق کسی خاص دور سے نہیں ہے، کیونکہ یہ انسانی وقار کا تقاضا ہے کہ ہمیں لکھنے اور بولنے کی آزادی ہو۔ ہمیں آزادی اظہار کا حق اس لیے حاصل ہے کیونکہ ہم انسان ہیں۔‘‘

گلوبل میڈیا فورم کی افتتاحی تقریب میں صوبہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی وزیر برائے وفاقی امور، یورپ اور میڈیا انگیلیکا شوال ڈیورن کے علاوہ بون شہر کے میئر ژُرگن نمپش Jürgen Nimptsch بھی شریک ہوئے۔

پاکستان سے اس میڈیا فورم میں 30 سے زائد مندوبین شریک ہیں۔ ان میں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے لائسنسنگ کے ڈائریکٹر جنرل سردار عرفان اشرف خان، پاکستان کے ایک نامور انٹرٹینمنٹ ٹیلی وژن نیٹ ورک ہم ٹی وی کی صدر سلطانہ صدیقی, پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ ڈاکٹر الطاف اللہ خان اور مختلف ایم ایف ریڈیو چینلز کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس