1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ڈوئچے ویلے کی بلاگر ایرانی فنکارہ کی جیل سے رہائی

ایرانی حکام نے ڈوئچے ویلے کی بلاگر پگاه آهنگرانی کو دو ہفتوں سے زائد تک گرفتار رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ تاہم اس فنکارہ پر عائد کردہ الزامات ابھی تک واپس نہیں لیے گئے ہیں۔

default

پگاه آهنگرانی

فلمساز، لکھاری اور اداکارہ پگاه آهنگرانی کے ایک رشتہ دار حامد حکمت نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بدھ کو پگاه آهنگرانی کو 58 ہزار یورو کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا، ’منگل کی رات کو آهنگرانی کے گھر والوں کو بتا دیا گیا تھاکہ پگاہ کو واپس اس کے گھر بھیجا جا رہا ہے۔ کم ازکم اسے رہا تو کر دیا گیا ہے‘۔ حامد حکمت نے آهنگرانی کی رہائی کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

ابھی تک یہ امر بھی غیر واضح ہے کہ آیا پگاه آهنگرانی کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی بھی کی جائے گی یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس خاتون بلاگر کو دوران قید کسی وکیل تک کوئی رسائی حاصل نہیں تھی۔

27 سالہ پگاه آهنگرانی نے ابھی حال ہی میں جرمن شہر بون میں منعقد ہوئے ڈوئچے ویلے کے گلوبل میڈیا فورم میں شرکت کے لیے جرمنی آنا تھا۔ تاہم جرمنی روانہ ہونے سے محض ایک روز قبل یعنی 12 جون کو اسے وزارت اطلاعات کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا، جس میں اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ عدالت میں پیش ہو۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسےگرفتار کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

Pegah Ahagarani

پگاه آهنگرانی کی گرفتاری کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوئی

اس پیشرفت کے بعد پگاه آهنگرانی نے اپنا جرمنی کا دورہ منسوخ کر دیا اور ڈوئچے ویلے ریڈیو نے پگاه آهنگرانی کے ساتھ جاری مشترکہ بلاگنگ کے سلسلے کو بھی معطل کر دیا تھا تاکہ اس وجہ سے اس ایرانی فنکارہ کو کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ تاہم اس کے باوجود اسے گرفتار کر لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ پگاه آهنگرانی کی گرفتاری کا حکم ایرانی سکیورٹی اتھارٹی نے جاری کیا تھا۔

پگاه آهنگرانی کی گرفتاری پر عالمی سطح پر ایران کی شدید مذمت دیکھنے میں آئی تھی۔ جرمن پارلیمان میں اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے پگاه آهنگرانی کی گرفتاری پر ایرانی حکام سے وضاحت بھی طلب کر لی تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ ایران میں 2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں خود پگاه آهنگرانی نے بھی شرکت کی تھی۔ اس وقت بھی پگاه آهنگرانی کو اپوزیشن رہنما میر حسین موسوی کی حمایت ظاہر کرنے پر تہران حکومت کو وضاحت دینا پڑی تھی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس