1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈوئچے ویلے برلن سے براہ راست

ڈوئچے ویلے کے شعبہ اردو، ہندی، بنگالی، چینی، انڈونیشیائی اور انگریزی کی ٹیمیں اس وقت جرمن دارالحکومت برلن میں ہیں جہاں سے وہ ساتویں ایشیا پیسیفک 2009ء ویکس ایونٹ کو براہ راست کورکرر ہے ہیں۔

default

سات اکتوبر سے شعبہء اردو اپنی تین میں سے دو نشریات یعنی شام اور شب کی مجالس برلن سے براہ راست جبکہ صبح کی مجلس بون سے پیش کر رہا ہے۔ ایشیا بحرالکاہل دو ہزار نو کا ایونٹ سات اکتوبر کو باقاعدہ طور پر شروع ہوا اور اس کا اختتام اٹھارہ اکتوبر کو ہوگا۔

Deutsche Welle Stand bei den Asia Pacific Wochen in Berlin 2009

سات اکتوبر سے مجموعی طور پر ڈوئچے ویلے کے پانچ شعبے روزانہ سات نشریات برلن سے پیش کر رہے ہیں۔ شعبہء اردو کے علاوہ ڈوئچے ویلے کا چینی زبان کا شعبہ بھی اپنی دو نشریات برلن سے پیش کر رہا ہے جبکہ ہندی، بنگالی اور انگریزی اپنی ایک ایک نشریات یہاں برلن سے پیش کر رہے ہیں۔

جرمن صدر ہورسٹ کوہلر نے ایشیا پیسیفک ایونٹ کے منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت دنیا کو شدید عالمی مالیاتی بحران کے ساتھ تحفّط ماحولیات کے چیلینجز بھی در پیش ہیں۔ جرمن صدر کے مطابق ’’دنیا کے سب سے بڑے بر اعظم ایشیا کے ساتھ یورپ کا تعاون اور شراکت کافی اہم ہیں۔ دنیا میں تحفّظ ماحولیات کو یقینی بنانے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پائیدار ترقی کے لئے ایشیا کا اہم اور زبردست کردار ہے۔ اس لئے ضرورت ہے تعاون کی- اسی لئے ایشیا پیسیفک جیسے ایو نٹ قابل ستائش ہیں۔‘‘

Reporterduo Ishaq Adnan und Gowhar Geelani

ڈوئچے ویلے شعبہء اردو کی ٹیم، عدنان اسحاق اور گوہر نذیر گیلانی

برلن کے میئر کلاؤس ووویرائٹ نے ایشیا پیسیفک ایونٹ دو ہزار نو کے لئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عالمی مسائل اور چیلنجز کا حل عالمی سطح پر تعاون سے ہی ممکن ہے:’’برلن وہ شہر ہے، جہاں بیس سال قبل دیوار برلن کے گرنے کے ساتھ ہی سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور یہ شہر عالمی مسائل کے حل سے متعلق تعاون کے لئے بہترین جگہ اور بہترین پلیٹ فارم ہے۔‘‘

ایشیا پیسیفک ویکس دو ہزار نو کا ماٹو ہے:’’ایشیا پیسیفک: مستقبل کے لئے پارٹنر‘‘۔ برلن کے ٹاون ہال یا ’’راٹ ہاؤس‘‘ میں ایشیا پیسیفک ویکس 2009ء یا ایشیا بحرالکاہل ہفتوں کا ایونٹ جاری ہے۔ سن 1997ء سے ہر دو سال بعد ایشیا پیسیفک ملکوں کے نمائندے برلن کا رخ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی، برلن

ادارت: امجد علی