1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈنمارک میں ریفرنڈم، یورپی یونین میں مزید انضمام کی مخالفت

یورپی یونین میں مہاجرین کے بحران کی وجہ سے صورتحال تناؤ کا شکار ہے اور پیرس حملوں کے بعد سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دریں اثناء ڈنمارک کے عوام نے یورپی یونین کے لیے ایک اور مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔

ڈینش عوام نے یورپی یونین میں مزید انضمام کی جانب بڑھنے والے حکومتی قدم روک دیے ہیں۔ ڈنمارک میں جمعرات تین دسمبر کو کرائے جانے والے ایک ریفرنڈم میں عوام نے یورپی محکموں کے ساتھ قریبی تعاون قائم کے خلاف فیصلہ دیا۔ سرکاری اعلان کے مطابق 53.1 فیصد عوام کا خیال ہے کہ ڈنمارک کو اپنے انصاف اور داخلہ کے امور میں مستقبل میں بھی آزاد رہ کر سرگرم عمل رہنا چاہیے۔ اس کے برعکس 46.9 فیصد نے یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے حق میں فیصلہ دیا۔

برطانیہ اور آئرلینڈ کی طرح ڈنمارک کو بھی ایک طویل عرصے تک یورپی یونین کے چند قوانین سے استثنیٰ حاصل رہا ہے تاہم اب متعدد اہم سیاستدان ڈینش حکومت کو کچھ ایسے یورپی قوانین اپنانے کا مشورہ دے رہے تھے، جن کی مدد سے سرحد پار جرائم کو روکا جا سکتا ہو۔

ڈینش پیپلز پارٹی کے رہنما کرسٹیان ڈال کے مطابق ’ڈینش عوام کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ معاملات کو برسلز کے سہارے چھوڑنے کا مطلب اُنہیں ایک غیر شفاف نظام کے حوالے کرنا اور اپنی جمہوریت کے ایک بڑے حصے سے محروم ہونا ہے‘۔ ڈینش وزیراعظم لارس لوکے راسموسن کے مطابق عوام نے اپنی رائے واضح طور پر دے دی ہے:’’یہ نتیجہ عوام میں یورپی یونین کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کا عکاس ہے‘‘۔ اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ میٹے فریڈیرکسن کے بقول وہ ڈینش عوام کی اس رائے کا احترام کرتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ڈنمارک کو یورپ کا ایک حصہ بھی قرار دیا۔

اس نتیجے کو ڈینش حکومت کے لیے ایک بڑی شکست سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ ملکی پولیس کو یورو پول میں شامل کیا جائے۔ تاہم ریفرنڈم کا نتیجہ ان منصوبوں کے لیے بھی ایک دھچکے سے کم نہیں۔ لزبن معاہدے کے تحت یورو پول آئندہ برس سے یورپی سطح کا ایک ایسا محکمہ ہو گا، جو یورپی یونین کے انصاف اور داخلہ کے وزراء کی نگرانی میں ہو گا۔ اس ریفرنڈم کے نتائج کے بعد بھی ڈنمارک اگر یورو پول کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے ایک متوازی معاہدے کی کوششیں کرنا ہوں گی۔