1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ڈنمارک میں خواتین کی پہلی مسجد کا افتتاح

یورپی ملک ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جمعے کے روز ایک ایسی مسجد کا افتتاح کیا گیا ہے جو صرف خواتین کے لیے مخصوص ہے اور وہاں امامت کے فرائض بھی خواتین ہی ادا کریں گی۔

اس نئی مسجد کا نام ’مریم مسجد‘ رکھا گیا ہے اور یہ اسکینڈی نیویا بھر میں میں خواتین کی پہلی مسجد ہے۔ اس مسجد کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والی خاتون شیریں خانقان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس مسجد میں امامت کے فرائض بھی صرف اور صرف خواتین ادا کریں گی جب کہ جمعے کی نماز میں بھی صرف خواتین کو مسجد آنے کی اجازت ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس مسجد میں جتنی بھی سرگرمیاں ہوں گی ان میں مرد حضرات کو بھی حصہ لینے کی اجازت ہو گی اور ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

شیریں خانقان ڈنمارک کی ایک مشہور مصنفہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسجد کے قیام کا مقصد ’پدر شاہی ڈھانچوں‘ پر قابو پانا ہے، جو نہ صرف اسلام میں موجود ہیں بلکہ عیسائیت اور یہودیت میں بھی پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ وہ اس طرح دیگر مسلمانوں کو خود سے علیحدہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد کسی کو ایک جگہ تک محدود کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ شہر کے ’تمام مسلمانوں‘ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

شیریں خانقان کے والد کا تعلق شام سے ہے جب کہ ان کی والدہ فن لینڈ کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈینش دارالحکومت میں رہنے والے دیگر فرقوں کے زیادہ تر مسلمانوں کی طرف سے انہیں مثبت اشارے ملے ہیں۔ شیریں کے مطابق ان پر تنقید بھی کی گئی ہے لیکن انہوں نے اس تنقید کا جواب ’اعتدال پسندی‘ سے دیا ہے۔

دوسری جانب کوپن ہیگن کی سب سے بڑی مسجد کے امام وسیم حسین کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس مسجد کی کیوں ضرورت تھی اور اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ ان کا ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’کیا ہمیں بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے کوئی ایسی مسجد بنانی چاہیے، جو صرف اور صرف مردوں کے لیے ہو؟ اگر ہم ایسا کریں گے تو فوری طور پر ڈینش معاشرے میں شور مچ جائے گا۔‘‘

شیریں خانقان نے ایسی خبروں کی بھی تردید کی ہے کہ مسجد کے مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے کیوں کہ انہیں سکیورٹی کے مسائل کا سامنا تھا۔ شیریں کے مطابق ابھی تک کسی نے بھی ان کو ’دھمکی آمیز‘ پیغامات نہیں بھیجے اور اس بارے میں بات کرنے والے صرف افواہیں پھیلا رہے ہیں۔