1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈنمارک : ممبئی طرز کے حملوں کا منصوبہ ناکام

ڈنمارک کی پولیس نے ممبئی طرز کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے شبے میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان مشتبہ افراد نے یکم جنوری کو اس اخبار کے دفتر کو نشانہ بنانا تھا جس نے پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکے شائع کئے تھے۔

default

ڈنمارک کی PET سکیورٹی پولیس کے سربراہ Jakob Scharf نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا،' یہ ہمارا اندازہ ہے کہ گرفتار شدگان ایک جنگجو اسلامی گروہ کا حصہ ہیں اوراس کے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں سے رابطے ہیں۔' انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے مشین گن، سائلنسر اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

جیکوب شارف نے بتایا کہ ان افراد نے منصوبہ بنا رکھا تھا کہ وہ یکم جنوری 2011ء کو کوپن ہیگن میں واقع ایک عمارت میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کریں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی کوشش کریں گے۔ اسی عمارت میں ڈینش اخبار Jyllands-Posten کا دفتر بھی واقع ہے، جس نے 2005ء میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکے شائع کئے تھے، جس کے بعد مسلم ممالک میں شدید احتجاج دیکھا گیا تھا۔

ڈینش حکام نے بتایا ہے کہ انہیں پہلے ہی اطلاعات موصول ہو چکی تھیں کی سویڈن میں موجود کچھ افراد ڈنمارک میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان افراد کے خلاف دونوں ممالک مشترکہ تحقیقات کریں گے۔ سویڈن کے حکام نے کہا ہے کہ گرفتاریوں سے قبل مکمل تحقیقات کی گئیں۔

Kalenderblatt Karikaturenstreit Mohammed-Karikaturen

پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکے شائع کرنے پر اسلامی ممالک میں شدید احتجاج دیکھا گیا تھا

شارف نے بتایا کہ یہ حملے ممبئی حملوں کی طرز پر پلان کئے گئے تھے۔ ممبئی حملوں میں دس مسلح افراد نے 166 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ شارف کے بقول ان تحقیقات میں ڈیوڈ ہیڈلی کے مشتبہ طور پر ملوث ہونے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہیڈلی اکتوبر 2009ء میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رواں سال مارچ میں ہی اس پاکستانی نژاد امریکی شہری کو ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ گرفتارشدگان میں سے چار کو ڈینش دارالحکومت کوپن ہیگن کے نواح سے جبکہ ایک کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہولم سے حراست میں لیا گیا۔ ان افراد کی گرفتاری کی اطلاع کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں انسداد دہشت گردی کے لئے سویڈن اور ڈنمارک کی مشترکہ کوششوں کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ امریکی حکومت اس کیس کی تحقیقات میں بھرپور ساتھ دے گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM