1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ڈنمارک: شامی مہاجر خاتون، دو بچیوں کی لاشیں فریزر سے برآمد

ڈنمارک کی پولیس نے ایک شامی مہاجر کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ اس شامی پناہ گزین پر اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو جنوبی ڈنمارک میں اپنی رہائش گاہ پر قتل کرنے کا الزام ہے۔

Dänemark Frau auf autobahn durch Steinewerfer getötet (picture-alliance/dpa/K. Rune/Scanpix 2016)

ڈینش پولیس کے مطابق ڈنمارک کی ایک عدالت نے اس شامی تارک وطن کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں

ڈینش پولیس نے آج یکم نومبر بروز منگل اپنے ایک بیان میں اس شبے کا اظہار کیا کہ  اس تہرے قتل کے پیچھے اسی خاندان کے سربراہ حامد فرید محمد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ گزشتہ اتوار کے روز پولیس حکام کو جرمنی کے ساتھ سرحد کے قریب ڈنمارک کے علاقے ’آبَین را‘ میں واقع ایک اپارٹمنٹ سے ایک ستائیس سالہ شامی مہاجر خاتون اور اس کی دو بچیوں کی لاشیں ملی تھیں۔

مقتول بچیوں کی عمریں سات اور نو سال بتائی گئی ہیں۔ یہ لاشیں اس فلیٹ میں ایک فریزر سے برآمد ہوئی تھیں۔ مقتولہ خاتون کے شوہر حامد فرید محمد کے بارے میں ابھی تک کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے تاہم اس کی تلاش جاری ہے۔

ڈینش پولیس کے مطابق ڈنمارک کی ایک عدالت نے اس شامی تارک وطن کو حراست میں لینے کا حکم جاری کرتے ہوئے اس کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں۔

ڈینش پولیس نے مہاجرین کی رقوم ضبط کر لیں

شام سے تعلق رکھنے والا یہ مہاجر خاندان سن دو ہزار پندرہ میں ڈنمارک پہنچا تھا، جہاں اسے کے ارکان کو پناہ گزینوں کی حیثیت سے رجسٹر کیا گیا تھا۔ ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈینش پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ خاتون کے شوہر اور مشتبہ ملزم کو گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

سن 2015 میں مجموعی طور پر اکیس ہزار سے زائد تارکین وطن کو ڈنمارک میں پناہ کے لیے داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

DW.COM