1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ڈنمارک بھی تارکین وطن کے لیے سخت قانون سازی میں مصروف

ڈنمارک کے وزیراعظم نے پناہ گزینوں کے بارے میں سخت مسودہٴ قانون متعارف کروانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ منصوبہ یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے لیے طے شدہ ڈبلن ضوابط کے منافی خیال کیا گیا ہے۔

سکینڈے نیویا خطے کے ملک ڈنمارک میں اِس وقت وزیراعظم لارس لوکے راسموسن کی اقلیتی حکومت قائم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارلیمان میں ایک مسودہٴ قانون پیش کرنے لگے ہیں، جس کا مقصد سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستیں سرحد پر ہی مسترد کرنا اور مہاجرین کو ڈنمارک میں داخل ہونے کا کوئی موقع نہ فراہم کرنا ہے۔ نارڈک ممالک میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع ہیں۔

لارکس لوکے راسموسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کے تحفظ کو اولیت دیتے ہیں اور کسی بھی صورت میں دوبارہ ایسی صورتحال جنم نہیں ہونے دیں گے جیسی کہ گزشتہ برس پیدا ہوئی تھی۔ سن 2015 میں اکیس ہزار سے زائد تارکین وطن کو ڈنمارک میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ ڈینش وزیراعظم کے مطابق یہ قانون سازی اِس لیے ضروری ہے کیونکہ گزشتہ برس یورپی یونین نے ڈبلن ضوابط کو نظر انداز کر دیا تھا اور پھر لاکھوں تارکین وطن یورپ میں داخل ہو گئے تھے۔

Dänemark Flüchtlinge in Thisted

ڈنمارک میں قاسم مہاجرین کے خیمے

ڈنمارک کے وزیراعظم نے اِس نئی قانون سازی کا فیصلہ ہمسایہ ملک ناروے سے متاثر ہو کر کیا ہے۔ راسموسن کے مطابق ناروے بظاہر یورپی یونین کا رکن نہیں ہے لیکن وہ ڈبلن قواعد کی پاسداری کرتا ہے۔ ناروے نے رواں برس سرحد پر ہی سیاسی پناہ کی درخواست کو مسترد کرنے کے قانون کی منظوری دی تھی۔ ڈینش قائدِ حکومت نے پارلیمان میں نئے قانون کے مسودے کو پیش کرنے پر اعتراف کیا کہ اِس عمل سے ڈبلن ضوابط کے تناظر میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس قانون کی منظوری ابھی ڈنمارک کی پارلیمان نے دینی ہے۔

ڈینش پارلیمنٹ میں اقلیتی حکومت کے وزیراعظم لارس لوکے راسموسن کو 179 کے ایوان میں صرف چونتیس نشستیں حاصل ہیں۔ انہیں اِس مسودہٴ قانون کی منظوری کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کا تعاون درکار ہے۔ اس بل کی منظوری میں ڈنمارک کی امیگریشن کی مخالف سیاسی پارٹی ڈینش پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل ہونے کا قوی امکان ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے اس قانون سازی پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اِس بابت کوئی بات کرنا جلدی ہے اور جب پارلیمنٹ اِسے منظور کرے گی تو حتمی رائے کا اظہار کیا جائے گا۔