1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ڈنمارک اب تارکین وطن کے لیے ’پرکشش نہیں‘

ڈنمارک کی پارلیمان نے تارکین وطن کے اثاثے ضبط کرنے کا متنازعہ قانون ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کے باوجود منظور کر لیا ہے۔ یہ قانون مہاجرین کے بارے میں منظور کیے گئے ایک مجموعی بل کا حصہ تھا۔

ڈنمارک میں دائیں بازو کی حکمران جماعت لبرل پارٹی کو اس قانونی مسودے کی منظوری کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار تھی۔ تاہم مہاجرین مخالف سیاسی جماعت ڈینش پیپلز پارٹی کے علاوہ حزب مخالف کی بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

منظوری سے قبل اس قانونی مسودے پر تین مرتبہ نظر ثانی کی گئی تھی۔ اس بل کی حمایت میں پارلیمان کے 81 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ مخالفت میں صرف 27 ووٹ ڈالے گئے۔ 70 پارلیمانی ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہ لیا۔

اس بل میں سب سے زیادہ توجہ تارکین وطن کے اثاثے ضبط کرنے کے مجوزہ لیکن متنازعہ قانون پر تھی۔ نئے قانون کے مطابق تارکین وطن کے پاس موجود دس ہزار کرونے سے زیادہ مالیت کی نقدی اور قیمتی اشیاء حکومتی تحویل میں لے لی جائیں گی۔ ان اشیاء کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقوم کو تارکین وطن کے ڈنمارک میں قیام پر اٹھنے والے اخراجات پورا کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔

اس قانونی مسودے کی منظوری سے قبل پارلیمانی بحث کے دوران سماجی انضمام کی خاتون وزیر اِنگر سٹوئبرگ نے ایوان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’اگر ہمیں یقین نہ ہوتا کہ یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر رہا، تو حکومت اسے ایوان کے سامنے پیش ہی نہ کرتی۔‘‘

ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس لوکے راسموسن کا کہنا تھا، ’’اب ہمیں اس قانون پر عمل درآمد کرنا ہو گا جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ڈنمارک تارکین وطن کے لیے پُرکشش نہ رہے۔‘‘

ڈنمارک میں منگل 26 جنوری کی رات اس قانون کی منظوری سے قبل ہی اسے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا تھا۔ ناقدین میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے کمیشن برائے انسانی حقوق سمیت بہت سے اہم بین الاقوامی ادارے پیش پیش تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’ایسے لوگ جو جنگوں اور شورش کے باعث اپنے وطنوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، ان کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آنا چاہیے اور بطور مہاجر ان کو ان کے حقوق ملنا چاہییں۔‘‘

ملکی سطح پر بھی اس قانون کے بارے میں ڈینش عوام کی رائے ابھی تک خاصی منقسم ہے۔ گزشتہ دنوں کرسٹیان میورک نامی ایک روسی نژاد ڈینش مصنف نے بھی سماجی انضمام کی وزیر اِنگر سٹوئبرگ کو احتجاجاﹰ ایک خط لکھا تھا جس کے ساتھ انہوں نے انیسویں صدی میں روس سے ہجرت کر کے ڈنمارک آنے والی اپنی دادی کی ایک انگوٹھی بھی بھیج دی تھی۔