1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ڈمنشیا کا عارضہ ایشیا میں پھیلتا ہوا

براعظم ایشیا کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔ آئندہ 40 سالوں میں dementia یا ذہنی صلاحیتوں کے انحطاط کے شکارانسانوں کی دنیا بھر میں پائی جانے والی کُل تعداد کا نصف حصہ صرف ایشیا میں پایا جائے گا۔

default

جرمنی کی لائبزگ یونیورسٹی کلینک میں الزائمر پر تحقیق کی جا رہی ہے

ماہرین کے مطابق ایشیا میں اس ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کی سب سے زیادہ تعداد چین میں دیکھنے میں آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ براعظم ایشیا کے ممالک میں ابھی ایسے تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے جو اس خطے میں dementia کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مقابلہ کرنے اور ان کے علاج معالجے اور دیکھ بھال کی قابلیت رکھتے ہوں۔ ہانگ کانگ میں قائم ’Alzheimer's Disease Association کے رابطہ کار ڈاکٹر ڈیوڈ ڈائی کے مطابق چین ایشیا کا وہ ملک ہے، جہاں کی آبادی سب سے زیادہ تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر ڈائی کے بقول: ’ہم اس بڑے المیے سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کا پورا خطہ Alzheimer یا dementia کی دیگر اقسام والی بیماریوں کے خلاف موئثر اقدامات کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ Gernotologist یا کہن سالی اورضعیفی کے مسائل کا علم رکھنے والے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ ڈائی کا کہنا ہے کہ Alzheimer ضعف عقل یا dementia کی بیماری کی سب سے عام قسم ہے۔

Rentner in China

چین کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے

یہ مرض انسانوں کی یاداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور اس میں مبتلا انسانوں کے جسمانی اعضاء رفتہ رفتہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہانگ کانگ کی پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے پبلک پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پیٹر یُواَین کا کہنا ہے کہ 70 سال سے زائد کی عمر کے 10 فیصد اور 80 سال سے زائد کی عمر کے 30 فیصد انسان dementia یا ضعف عقل کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ Yuen نے مزید کہا کہ ہر کوئی عمر کے اس حصے سے گزرتا ہے اور ہر فیملی کو اپنے گھر میں ایسے کسی نہ کسی مریض کا تجربہ ہوتا ہے۔ Peter Yuen کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں اب انسانوں کی عمر 80 سال سے اوپر ہونے لگی ہے۔ اس وجہ سے dementia کی بیماری بھی عام ہوتی جارہی ہے، بلکہ اس کی مختلف اقسام میں مبتلا انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Symbolbild Alzheimer Krankheit

الزائمر عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ سنگین تر ہوتا جاتا ہے

Alzheimer کی پیشن گوئی کرنے والا ٹیسٹ:

امریکی محققین نے حال ہی میں ایک ریسرچ کے ذریعےAlzheimer کے عارضے کی پیشین گوئی کرنے والے اب تک کے سب سے موئثر ٹیسٹ کا پتہ لگایا ہے۔ انہوں نے دماغ کے ایک خاص قسم کے امیجنگ ٹیسٹ کو میموری ریکال ٹیسٹ یا قوت حافظہ کو واپس بلانے کے ٹیسٹ دونوں کو ملا کر یہ تجربہ کیا ہے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم برکلے یونیورسٹی کے Helen Wills نیورو سائنس انسٹیٹیوٹ اور Berkley National Laboratory سے منسلک ریسرچ اسکالرSusan Landau اور ان کے چند دیگر ساتھیوں نے مل کر ایک مطالعاتی تجربہ کیا۔ اس میں پچاسی افراد کا دماغی سکین کیا گیا اور ساتھ ہی ان کا عقلی امتحان بھی لیا گیا۔ ان دونوں کے نتائج ایک طرح سے Alzheimer کے عارضے کے انتباہی نظام کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے اس تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ ایسے افراد جن کی کارکردگی یادداشت کے ٹیسٹ میں بہت اچھی نہیں رہی اور جن کے دماغ کی اسکینگ سے یہ پتا چلا کہ ان کے دماغ کے ایک خاص حصے میں گلوکیز میٹابولزم یا فعلیات کی کمی پائی گئی، بہت جلد Alzheimer کے عارضے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کی تحقیق بتاتی ہے کہ ان افراد میں دیگر انسانوں کے مقابلے میں محض دو سال کے اندر اندر Alzheimer کی بیماری کے جنم لینے کے امکانات 15 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

Gehirnstudie Flash-Galerie

امریکی محققین نے دماغ کے اسکین اور عقل کے امتحان کے ذریعے الزائمر کے امکانات کا پتا چلایا ہے

دماغ کی اسکینگ کی یہ قسم Positron -EmissionTomography

PET کہلاتی ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے دماغ کے دونوں طرف اور پچھلے حصے میں پائے جانے والے ہڈی کے جوڑوں میں موجود گلوکوز میٹا بولزم میں کمی اور عقلی نقص کے ایک دوسرے کے ساتھ گہرے تعلق کا بھی پتہ چلا ہے۔ تاہم اس تحقیق کی سربراہی کرنے والی خاتون ماہر Susan Landau نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ عقلی کمزوری یا نقص کے حامل ہر انسان کے اندرAlzheimer کا عارضہ جنم لے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ کارآمد یہ پتہ لگانے کا عمل ہوگا کہ کن افراد میں کس بیماری کےخطرات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لئے کلینیکل یا بائیولوجیکل ٹیسٹ کئے جانے چاہیئں۔

Gehirn mit Alzheimer-Krankheit

دماغ میں پائے جانے والے الزائمر کے آثار

ماہرین کے مطابق ان کی یہ کوشش ہے کہ وہ ایسے مریضوں، جن میں بظاہر عقلی نقص کی کوئی علامت نظر نہیں آتی لیکن پھر بھی وہ Alzheimer کے مرض کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں، ان کے بارے میں وقت پر ہی پتہ چلا لیا جائے تاکہ ان کا علاج بروقت کیا جا سکے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد ذہنی اور جسمانی تنزلی کے عمل کو روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ محققین اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ آیا Alzheimer کے مریضوں میں شدید نوعیت کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ان کے علاج کی کوشش موئثر ثابت ہو سکتی ہے، اور یہ بھی کہ اس بیماری کی تشخیص کے لئے موجودہ تشخیصی آلات کی تجدید اور نئے اور بہتر آلات کی ضرورت ہے یا نہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM