1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ڈریسڈن کے ڈانس اسکول نے عبدلی کو گمنام ہونے سے بچا لیا

احمد عبدلی پیشہ ور شامی رقاص ہے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی بھی کرتا رہا ہے، قطر میں اس نے ایک لاکھ بیس ہزار ناظرین کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا۔

تئیس سالہ شامی رقاص، احمد عبدلی جب کچھ برس قبل جرمنی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا تھا تب شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ایک دن وہ اس ملک میں مہاجر بن کر آئے گا۔ وہ جرمنی اور روس سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہر کر چکا ہے۔

شام کے اس پیشہ ور کے تمام دوست خانہ جنگی کے باعث ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے لیکن وہ شام ہی میں رہنا چاہ رہا تھا۔ شام کے حالات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ آخر اسے بھی ترک وطن پر مجبور ہونا پڑا۔ دیگر شامی مہاجرین کی طرح اس نے بھی اپنی زندگی داؤ پر لگا کر یورپ کا رخ کیا۔

شام سے لبنان، ترکی اور پھر بحیرہ ایجیئن کا خطرناک سمندری سفر، اس شامی فنکار کے مطابق ’’طویل اور صبر آزما‘‘ تھا۔ لیکن آخر کار وہ بلقان راستوں سے گزرتا رواں برس یکم اکتوبر کو جرمنی کے شہر ڈریسڈن پہنچ گیا۔

ڈریسڈن کے بین الاقوامی شہرت کے حامل پالوُکا ڈانس اسکول نے ڈریسڈن میں موجود تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے کے لیے جاز رقص کا اہتمام کیا۔ اس وقت عبدلی بھی سینکڑوں صدمہ زدہ اور بے نام مہاجرین کے ہمراہ ناظرین میں بیٹھا تھا۔

پالوُکا ڈانس اسکول کے انٹرنیشنل ریلیشنز کی سربراہ ایلین میئگل کہتی ہیں کہ پرفارمنس کے بعد، ’’بچوں اور نوجوانوں سمیت کئی تارکین وطن نے رقص سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔‘‘ کئی مہاجرین نے اسکول کے طلبا کے ساتھ رقص کرنا شروع کیا تو میئگل کی نظر ماہرانہ رقص کرتے عبدلی پر پڑی۔ احمد عبدلی کے رقص سے متاثر ہو کر میئگل نے اسے اپنے ڈانس اسکول آنے کی دعوت دی تو عبدلی کو لگا جیسے اب وہ واپس رقص کی دنیا میں داخل ہونے والا ہے۔

لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک اور موڑ آ گیا۔ مہاجرین سے متعلق ادارے نے عبدلی کو ڈریسڈن کی بجائے سیکسنی صوبے کے ایک گاؤں میں قائم شیلٹر ہاؤس بھیج دیا۔ لیکن اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے پاس میئگل کا وزٹنگ کارڈ موجود تھا۔

پالوُکا ڈانس اسکول اور ہلال احمر کے اہلکاروں کے تعاون سے وہ اب واپس ڈریسڈن میں موجود پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہ رہا ہے۔ اسکول کے ریکٹر نے اسے مہمان طالبعلم کے طور پر شام کی کلاسیں لینے کی اجازت دے دی ہے۔ پالوُکا اسکول کے ریکٹر کرسٹیان کانسیانی کا کہنا ہے، ’’ٹیلنٹ کی مدد نہ کی جائے تو وہ ضائع ہو جاتا ہے۔‘‘

عبدلی خوش ہے کہ اسے پالُوکا ڈانس اسکول جیسی جگہ پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس کا کہنا ہے، ’’موسیقی اعضا کی شاعری ہے، رقص کہ مدد سے آپ سب کچھ کہہ سکتے ہیں۔‘‘

اسکول میں کئی ممالک سے آئے ہوئے طلبا رقص کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پالوُکا انتظامیہ اور طلبا نے رضاکارانہ طور پر مہاجرین بچوں کے لیے رقص سکھانے کی کلاسیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگلے برس کے آغاز میں جب یہ کلاسیں شروع کی جائیں گی تو احمد عبدلی بھی پناہ گزین بچوں کو رقص سکھانے والوں میں شامل ہو گا۔