1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’ڈرگ کوئین‘ سے ناول نگار تک، ایک برازیلین خاتون کی کہانی

برازیل کی ایک کچی آبادی میں پلنے والی راکیل ڈے اولیویرا نے بھوک سے بچنے کے لیے چھ برس کی عمر میں نشہ شروع کر دیا تھا اور گیاہ برس کی عمر میں اسے اپنے تحفظ کے لیے پہلی مرتبہ ایک پستول بھی تھما دیا گیا تھا۔

Brasilien Rio de Janeiro Raquel Santos Oliveira

زندگی کی صعوبتوں اور نشیب و فراز کے بعد اب راکیل ڈے اولیویرا ایک لکھاری بن گئی ہیں۔

برازیل کے سب سے بڑے شہر ریو ڈی جینیرو کی کچی آبادیوں میں کسی زمانے میں منشیات کا کاروبار کرنے والی خاتون راکیل ڈے اولیویرا کو اس غیر قانونی تجارت میں ایک اہم مقام حاصل تھا۔ تاہم زندگی کی صعوبتوں اور نشیب و فراز کے بعد اب وہ ایک لکھاری بن گئی ہیں۔ ایک عشرے تک خود کو منشیات کی لت اور شراب نوشی میں گم رکھنے والی اولیویرا علاج کے بعد اب ایک صحت مند زندگی بسر کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں ان کا اولین ناول ’نمبر ون‘ شائع ہوا، جسے کافی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے 54 سالہ اولیویرا نے کہا، ’’ادب ہی ایک ایسی شے ہے، جس نے مجھے زندہ رہنے کی امید دلائی۔‘‘ گھنے سیاہ بالوں والی اس خاتون نے مزید کہا، ’’اب لکھنے سے مجھے لطف ملتا ہے۔ اس نے کوکین کی جگہ لے لی ہے۔ اس نے مجھے میرے دکھوں سے فرار کا راستہ دکھا دیا ہے۔‘‘

اسّی کی دہائی میں اولیویرا ریو ڈی جینیرو کی لا روسینیا نامی ایک کچی آبادی میں سرگرم منشیات کے اسمگلر نالڈو کی محبوبہ تھیں۔ ایک پولیس مقابلے میں نالڈو کی ہلاکت کے بعد وہ خود بھی اس غیر قانونی کاروبار سے منسلک ہو گئیں۔ تاہم شراب نوشی اور منشیات کی عادت نے ان کی زندگی کو تہہ و بالا کر دیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ اپنے محبوب کی ہلاکت کے بعد وہ بہت اکیلی ہو گئی تھیں اور اس غم کو غلط کرنے کی خاطر انہوں نے منشیات خاص طور پر کوکین کا استعمال کچھ زیادہ ہی کر دیا تھا۔

Brasilien Rio de Janeiro Raquel Santos Oliveira

بچپن میں اولیویرا کو جسم فروشی کے لیے بھی بیچ دیا گیا تھا

سن 2005 میں راکیل ڈے اولیویرا کے ایک دوست نے انہیں معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اولیویرا کو سماجی بحالی کے ایک ادارے میں داخل کرایا گیا، جہاں انہیں ناول، شاعری اور ادب کی دیگر اصناف سے متعارف ہونے کا موقع بھی ملا۔ طبی اور نفسیاتی بحالی کے اس مرکز میں انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا بلکہ تصنیف ادب کے حوالے سے بھی طبع آزمائی شروع کر دی۔

اپنے پہلے ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے اولیویرا نے کہا، ’’یہ میری زندگی کی کہانی ہے۔‘‘ وہ ایجوکیشن میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک اور ناول پر کام کر رہی ہیں۔ اولیویرا کا کہنا ہے کہ انہوں نے شاعری بھی شروع کر دی ہے اور جلد ہی ان کی شاعری کی دو کتابیں بھی منظر عام پر آ جائیں گی۔

اولیویرا بتاتی ہیں کہ ان کا بچپن انتہائی کسمپرسی میں گزرا۔ وہ چھ برس کی عمر میں اپنے والد کے ظلم و جبر سے فرار ہوئیں تو وہ ابھی نو برس کی ہی تھیں کہ ان کی نانی نے انہیں ایک گینگسٹر کے ہاتھ فروخت کر دیا، جو کئی لڑکیوں کا ’گاڈ فادر‘ قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم ایک راہب نے معجزاتی طور پر مداخلت کی جس کی وجہ سے اولیویرا جسم فروشی سے بچ گئیں۔ اولیویرا کے بقول اس راہب نے اس ’گاڈ فادر‘ سے کہا، ’’یہ لڑکی جسم فروشی نہیں کرے گی بلکہ اسے تم اپنی لے پالک بیٹی بنا لو۔‘‘

اولیویرا کے مطابق اس معجزے کے بعد ان کی زندگی میں کچھ بہتری پیدا ہوئی لیکن مسلسل خوف اور بے چینی کی کیفیت ختم نہ ہو سکی۔ اولیویرا کہتی ہیں کہ راہب کی مداخلت کی وجہ سے اس گینگسٹر نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور وہ ابھی صرف گیارہ برس کی ہی تھی کہ انہیں ذاتی سلامتی کے لیے ایک پستول ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ اولیویرا پچیس برس کی تھیں، جب وہ پہلی مرتبہ نالڈو سے ملیں، جس سے انہیں محبت ہو گئی۔ نالڈو کے ساتھ گزرے اپنے اس تین سالہ دور کو وہ اپنی زندگی کا بہترین وقت قرار دیتی ہیں۔ لیکن نالڈو کی ہلاکت کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر زندگی سے مایوس ہو گئی تھیں۔

Brasilien Rio de Janeiro Raquel Santos Oliveira

بطور ادیبہ اولیویرا اپنے نئے جنم سے انتہائی خوش ہیں

اولیویرا نے نالڈو کی موت کے بعد اس کا منیشات کا کاروبار تو سنبھال لیا، لیکن شراب اور منشیات کے بہت زیادہ استعمال نے ان کی زندگی کو تباہ کر دیا۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے اولیویرا نے مزید کہا، ’’کوکین نے میرے ان تمام جذبات کی تسکین کر دی تھی، جن کی تسکین صرف میرا شوہر ہی کرتا تھا۔ اس کوکین نے میرے شوہر کی محبت اور سیکس کا مقام حاصل کر لیا تھا۔‘‘

اب بطور ادیبہ اولیویرا اپنے نئے جنم سے انتہائی خوش ہیں۔ ان کے بقول اب ادب نے منشیات کی جگہ لے لی ہے۔ انہیں لکھنے میں وہ لطف محسوس ہوتا ہے، جو کبھی انہیں اپنے شوہر کی موجودگی میں ملتا تھا۔ اولیویرا کہتی ہیں کہ انہیں اپنی زندگی پر کوئی شرمندگی نہیں ہے، ’’میں نے ماضی میں ہر وقت بطور انسان اپنی عظمت کو برقرار رکھا۔ میری زندگی اس سے بدتر بھی ہو سکتی تھی۔‘‘