1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرگ ایکٹ ترمیم پر احتجاج انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب؟

پنجاب حکومت کے اس عہد کے بعد کہ انسانی جان کو خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے جعلی ادویات کا کاروبار نہیں چلنے دیا جائے گا، مال روڈ پر حملے میں جانوں کا ضیاع دُکھ کا باعث ہے۔ ڈی ڈبلیو شعبہ اُردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔

آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت کی طرف سے ادویات کا کاروبار کرنے والے بڑے اداروں کے خلاف ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کا متنازعہ مسئلہ ایک سانحے کی شکل اختیار کر لے گا، اس کا اندازہ خود پنجاب حکومت کے حکام کو غالباً نہیں تھا۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گنجان علاقے چیئرنگ کراس پر ڈرگ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے احتجاج کے دوران ہونے والا زور دار خود کش حملہ تین وارڈن اور دو پولیس افسروں سمیت متعدد ہلاکتوں کا سبب بن چُکا ہے۔

اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان میں رونما ہونے والے ہر چھوٹے بڑے واقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور ان کا ہدف صرف اور صرف شہری ہوتے ہیں۔

Deutsche Welle Urdu Kishwar Mustafa

ڈی ڈبلیو شعبہ اُردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ

پیر کو لاہور میں ہونے والے اس دہشت گردانہ حملے نے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ابھی 7 فروری کوانسداد دہشست گردی کے قومی ادارے NACTA کی طرف سے ایک انتباہی پیغام جاری کیا گیا تھا، جس میں پنجاب کے شہر لاہور پر ممکنہ دہشت گردانہ حملے سے خبر دار کیا گیا تھا۔

اس اعلان نامے میں پنجاب کے ہوم سیکرٹری سمیت صوبائی پولیس آفیسروں اور ڈی جی رینجرز پنجاب کے نام ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ پنجاب کے تمام اہم اداروں کی عمارتوں بالخصوص اسکولوں اور ہسپتالوں پر سخت حفاظتی پہرا لگایا جائے اور حساس مقامات اور عمارتوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے تاکہ کسی ممکنہ حملے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس پر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ NACTA کے انتباہی نوٹیفیکیشن کے بعد تمام اہم عمارتوں اور مقامات کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے اقدامات سخت تر کر دیے گئے تھے۔ اس کے باوجود پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے نزدیک ہونے والا خود کُش بم حملہ ناقابل فہم بات لگتی ہے۔

 پیر کو ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی جماعت الاحرار دراصل شدت پسند تنظیم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والا گروپ ہے جسے امریکا نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

جماعت الاحرار پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسند گروپ ہے، جسے اگست سن 2014 میں ٹی ٹی پی کے ایک سابق امیر نے قائم کیا تھا، جس کے بعد جماعت الاحرار نے عام شہریوں، مذہبی اقلیتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجیوں کو اپنے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔