1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون طیارے: پاکستانی امریکی تعلقات میں نئی کشیدگی

گزشتہ برس امریکہ کی جانب سے پاکستان کو بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے جاسوس طیارے مہیا کرنے کی پیشکش پر اسلام آباد نے خوشی کا اظہار کیا تھا تاہم اب یہی معاملہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔

default

اسلام آباد کو یہ پیشکش امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے گزشتہ برس جنوری میں اپنے دورہء پاکستان کے دوران کی تھی، تاہم اس حوالے سے ہونے والی بات چیت اب تک کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔ پاکستان کی طرف سے غیر سرکاری طور پر اس معاملے پر نہ صرف اعتراض کیا جا رہا ہے بلکہ ان طیاروں کی قیمتوں اور حوالگی میں وقتی طوالت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

UAV Unbemannte Aufklärungsdrohne der US Armee

رابڑٹ گیٹس نے پاکستان کے لئے ڈرون کا اعلان کیا تھا

اسلام آباد میں متعین ایک امریکی فوجی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت میں مصروف ہے کہ پاکستانی فوج کو کس طرح کے بغیر پائلٹ ڈرون نظام کی ضرورت ہے۔ اسی بارے میں ایک پاکستانی فوجی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرون طیارے مہیا کرنے کے حوالے سے بات چیت کا عمل ’انتہائی سست‘ ہے۔

’’مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں طیارے کس قسم کے چاہئیں اور اس وجہ سے ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے بلکہ مذاکرات میں تاخیر کی اصل وجوہات دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ طیارے ہمارے حوالے کرنے کے لئے طے کردہ وقت بہت زیادہ ہے اور دوسرا ان طیاروں کی قیمت کی ادائیگی ہمارے لئے آسان نہیں۔‘‘

اس پاکستانی عہدیدار کے مطابق امریکہ کی طرف سے ان طیاروں کی متعین کردہ قیمت عالمی مارکیٹ میں ان طیاروں کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے اور ان کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لئے کم از کم تین برس کا وقت دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم کہا ہے کہ فریقین اس معاملے پر پوری مستعدی سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے، جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ طے پا گیا، یہ طیارے جلد از جلد پاکستان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

US Drone Predator Flash-Galerie

امریکی بغیر پائلٹ جاسوس طیارے پاکستانی قبائلی علاقوں میں بہت زیادہ استعمال کیے گئے ہیں

دونوں ممالک کے درمیان ڈرون طیاروں کے معاملے میں اتفاق رائے کی کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب واشنگٹن اسلام آباد سے طالبان کے خلاف ’مزید اور مؤثر کارروائی‘ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ برس وائٹ ہاؤس نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والے طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔

رپورٹ: عاطف توقیر / خبررساں ادارے

ادارت : مقبول ملک

DW.COM