1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملے میں الیاس کشمیری ہلاک

پاکستانی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ سے منسلک اہم عسکریت پسند کمانڈر الیاس کشمیری ہلاک ہوگئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کشمیری جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔

default

ایک سینیئر پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’ اس ڈرون حملے میں الیاس کشمیری کے گروپ کو نشانہ بنایا گیا، ہم فی الحال یہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ وہ حملے کے وقت وہاں موجود تھا یا نہیں۔‘‘ عسکریت پسندوں کے ایک ترجمان احسان اللہ احسان نے پہلے دعویٰ کیا کہ کشمیری زندہ ہے تاہم بعد میں میڈیا کو جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں ان کے مارے جانے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

مقامی انٹیلی جنس ذرائع بھی الیاس کشمیری کے مارے جانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ 47 سالہ الیاس کشمیری کا شمار القاعدہ سے منسلک خطرناک ترین پاکستانی عسکریت پسندوں میں ہوتا ہے۔ اس پر پاکستان، افغانستان اور بھارت سمیت یورپ اور امریکہ میں بھی دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے الزامات ہیں۔

Flash-Galerie Spuren des Terrors

کراچی نیول بیس پر ہونے والے حملے میں بھی الیاس کشمیری کا نام لیا جا رہا ہے

امریکہ نے الیاس کشمیری سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر پانچ ملین ڈالر انعام مقرر کر رکھا تھا۔ 2 مئی کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اب کشمیری کی ہلاکت کو اس ضمن میں ایک اور اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان میں کیے گئے تازہ ڈرون حملے میں مجموعی طور پر نو عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے ڈرون حملوں کے خلاف متعدد بار صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ اس کے باوجود بن لادن کی ہلاکت کے بعد یہ نواں ڈرون حملہ ہے۔

Navy Bus nach Explosion

الیاس کشمیری کا شمار خطرناک ترین دہشت گردوں میں ہوتا ہے

واضح رہے جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج نے 2009ء کے دوران فوجی آپریشن کرکے اسے عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک عہدیدار نے بتایا، ’’ اس حملے میں نو عسکریت پسند مارے گئے ہیں، مارے جانے والے تمام پنجابی طالبان ہیں۔‘‘

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق الیاس کشمیری، شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے آغاز سے متعلق امکانات پر اپنے دیگر عسکریت پسند ساتھیوں سے گفتگو کرنے جنوبی وزیرستان آیا تھا۔

الیاس کاشمیری افغانستان اور کشمیر میں کارروائیاں کرنے والے حرکت الجہاد الاسلام نامی گروپ کا سربراہ تھا۔ 2009ء میں راولپنڈی شہر کے اندر ملکی فوج کے صدر دفتر اور رواں سال کراچی میں بحریہ کے فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی کشمیری پر عائد کی جاتی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM