1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملے ميں خود امريکی فوجيوں کی ہلاکت کا پہلا واقعہ

پچھلے ہفتے افغانستان ميں ايک بغير عملے والے امريکی ڈرون طيارے کے حملے سے دو امريکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس کی اطلاع امريکی دفاعی حکام نےِ دی ہے۔

default

امريکہ کا ايک گلوبل ہاک ڈرون طيارہ

کسی امريکی ڈرون کے حملے سے خود امريکی فوجيوں کے ہلاک ہونے کا يہ پہلا موقع ہے۔

امريکی فوجی حکام نے اس واقعے کی تحقيقات شروع کردی ہے جس کے بارے ميں يہ کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان کے جنوبی علاقے ہلمند ميں ميدان جنگ ميں مبہم صورتحال کی وجہ سے پيش آيا۔ عام طور پر لڑاکا جيٹ طياروں اور ہيلی کاپٹروں کو طالبان کے نرغے ميں آ جانے والی فوج کی قريب سے فضائی مدد کرنے اور ڈرون طياروں کو القاعدہ کی شخصيات پر حملوں کے ليے طلب کيا جاتا ہے۔

پچھلے ہفتے امريکی ڈرون کے ايک ايسے ہی حملے ميں نيوی کے 23 سالہ فوجی بينجمن راسٹ اور26 سالہ اسٹاف سارجنٹ جيريمی اسمتھ ہلاک ہوگئے۔ اين بی سی نيوز کے مطابق، جس نے اس واقعے کی سب سے پہلے اطلاع دی، دونوں فوجی ايک يونٹ ميں شامل تھے جسے سنگين کے باہر طالبان کی شديد فائرنگ کی زد میں آجانے والے امريکی فوجيوں کی کمک کے لیے بھيجا گيا تھا۔ سنگين ميں پچھلے کئی برسوں سے شديد لڑائی جاری ہے۔

Wehrpflicht in Deutschland Bundeswehr Flash-Galerie

افغانستان ميں جرمن فوجی

اين بی سی کے مطابق فضا ميں موجود مسلح ڈرون کے جاری کردہ ويڈيو ميں زمين پر لڑنے والے فوجيوں نے انفرا ريڈ شعاعوں کے ذريعے کچھ شبيہوں کو اپنی طرف بڑھتے ديکھا اور وہ يہ سمجھے کہ وہ ساتھی فوجيوں کے بجائے طالبان تھے۔

David Petraeus NATO US Force Afghanistan

افغانستان ميں نيٹو اور امريکی فوج کے سربراہ جنرل پيٹريس

پچھلے ہفتے کے اس واقعے کی تحقيقات اخبار لاس اينجلس ٹائمز ميں فروری کے ايک شديد طور پر غلط ڈرون حملے کی تفصيلی خبر شائع ہونے کے بعد شروع کی گئی ہے۔ فروری کے حملے ميں ڈرون چلانے والے امريکی عملے اور اسپيشل آپريشنز فورسزنے افغان شہريوں کے ايک کاروں کے قافلے کو غلطی سے طالبان کا مسلح دستہ سمجھا تھا۔ امريکی فوج کے مطابق ارزگان صوبے کے ايک گاؤں کے قريب اس ڈرون حملے ميں 16 مرد، ايک عورت اور تين بچے ہلاک ہوگئے تھے ليکن افغان حکام کے مطابق حملے ميں مرنے والوں کی تعداد 23 تھی جن ميں دو بچے بھی شامل تھے۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک     

DW.COM

ویب لنکس