1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ڈرون حملے ملکی سلامتی کے خلاف ہیں: پاکستان

ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اورامریکی حکام کے مابین بلوچستان میں ڈرون حملے کئے جانے پر گفت وشنید ہو رہی ہے۔

default

رواں برس قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر تقریبا پچاس ڈرون حملے ہوئے

پاکستان نےان خبروں کی تردید کی ہے کہ اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بڑھانے پر غور کررہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی طرف سے سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون پروگرام میں وسعت کی اجازت دے دی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا یہ قدم نئی افغان پالیسی کا ہی ایک جزو ہے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ امریکی حکام اب پاکستان سے بلوچستان میں ڈرون حملوں کے بارے میں باقاعدہ گفت و شنید کر رہے ہیں۔

USA / Obama / Afghanistan

باراک اوباما مزید تیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کرچکے ہیں

دوسری جانب جمعے کے روز پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان ان حملوں کو اپنی ملکی سلامتی کے خلاف تصور کرتا ہے۔ بلوچستان میں حملوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزارتی ترجمان عبدالباسط کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ڈرون حملوں کا پہلو کبھی بھی امریکہ کے ساتھ زیر بحث نہیں رہا۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے کچھ واضح حدود مقررکی ہوئی ہیں اور اس حوالے سے امریکہ کو بھی مکمل آگاہ کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ صدر اوباما، نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی تقریر میں یہاں تک کہ گئے تھے کہ اگر پاکستان نے القاعدہ عسکریت پسندوں کو اپنے قبائلی علاقوں میں چھپنے کی اجازت دی تو اسے بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

امریکی دفاعی حلقوں میں اس بات پر شدید بحث جاری ہے کہ نئی افغان پالیسی کے تحت جب 30 ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے تو اس بات کا خطرہ ہے طالبان عسکریت پسند پاکستان کے قبائلی علاقوں کی طرف نکل جائیں گے۔ اسی پہلو کے تحت امریکی دفاعی اہلکار اس بات پر قائل نظر آتے ہیں کہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار بلوچستان تک بڑھا دیا جائے۔

UAV Unbemannte Aufklärungsdrohne der US Armee

پاکستان ڈرون حملوں کی شدید مخالفت کرتا آیا ہے

جبکہ پاکستان میں حکومتی اورعوامی سطح پر ہمیشہ ڈرون حملوں کی مخالفت کی گئی ہے اوران حملوں کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کارروائیوں کے خلاف تصور کیا جاتا ہے۔

رواں برس قبائلی علاقوں میںمبینہ طور پر کم وبیش پچاس ڈرون حملے کئے گئے، جن میں 415 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ ہلاک شدگان میں ایک بڑی تعداد عام افراد کی بھی تھی۔ آئندہ کی ڈرون سٹریٹیجی، محض عسکریت پسندوں کے تعاقب تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس سے جنگ کے زیر اثر آنے والے زمینی علاقوں میں بھی پھیلاؤ آئے گا۔

رپورٹ: عبدالرؤف انجم

ادارت: عاطف بلوچ