1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملہ، پاکستانی حکومت کے مسائل بڑھتے ہوئے

قبائلی علاقے دتہ خیل پر ڈرون میزائل حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت پر امریکہ کے ساتھ شدید احتجاج کے باوجود پاکستانی فوجی اور سول قیادت کو اندرون ملک سخت تنقید کا سامنا ہے۔

default

ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی، دانشور، قبائلی عمائدین اور ذرائع ابلاغ امریکی میزائل حملے کا ذمہ دار حکام کی امریکہ کے ساتھ لچکدار پالیسیوں کو قرار دے رہے ہیں۔ دو پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پر حکمرانوں کو پہلے ہی ملک گیر احتجاج کا سامنا ہے۔

جمعرات 17 مارچ کوڈیوس کی رہائی کے موقع پر دتہ خیل میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک جرگے میں شریک 41 قبائلیوں کی ہلاکت نےان کے لئے مشکلات میں مزیداضافہ کر دیا۔

UAV Unbemannte Aufklärungsdrohne der US Armee

جمعرات 17 مارچ کو دتہ خیل میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک جرگے میں شریک 41 قبائلی ہلاک ہوگئے تھے

حکومت کے حامی سمجھے جانے والے شمالی وزیرستان گرینڈ جرگے کے اراکین نے بھی کہا ہےکہ عام شہریوں کی ہلاکت کے باوجود حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ جرگے کے ایک رکن ملک جلال کا کہنا تھا: "امریکی ہمارے بچوں کو معاف کرتے ہیں نہ بوڑھے اور جوانوں کو معاف کرتے ہیں۔ اسی سبب اب ہم امریکہ سے اپنے خون کا بدلہ لیں گے۔"

ادھر ملکی ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاکستانی قیادت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے دفاعی تجزیہ نگار ائیر مارشل ریٹائرڈ شہزاد چوہدری کا کہنا ہے کہ امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے سب سے اہم اتحادی کے مسائل سمجھنے کے لیے تیار نہیں انہوں نے کہا: "پاکستان کا رویہ بالکل فطری ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اندر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہت جلدی بہتری کی امید کی جائے۔"

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی شدید مذمت اور امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی کے باوجود پاک امریکہ تعلقات زیادہ دیر تک کشیدہ نہیں رہیں گے۔ اس بارے میں تجزیہ نگار کامران شفیع کا کہنا ہے: "ان واقعات سے کوئی تبدیلی بالکل نہیں ہوگی۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

ڈرون حملے میں سویلین ہلاکتوں پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سخت مذمت کی گئی

پاکستان اور امریکہ کے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ ہم بہت انحصار کرتے ہیں ان پر۔۔۔سارا دفاعی سامان ، ایف 16 اور ان کے پرزے امریکہ سے آتے ہیں۔ ادھر ہم انڈیا کے ساتھ دشمنی لگا کر بیٹھے ہیں تو امریکہ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟"

اسی دوران دفتر خارجہ کی ترجمان تمہینہ جنجوعہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکی سفیر کیمرون منٹر پاکستان کا موقف اعلیٰ امریکی قیادت تک پہنچائیں گے جس سے حالات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔ انہوں نے کہا: "ہم نے بہت واضح طور پر اپنا مؤقف امریکہ تک پہنچا دیا ہے۔ اب امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ اس بات کو کس طریقے سے سنبھالتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں طرف کے سمجھدار لوگ ان باتوں پر غور کریں گے کہ ایسا نقصان دوبارہ نہ ہو۔"

دریں اثناء پاکستانی فضائیہ کی طرف سے قبائلی علاقوں میں فضائی نگرانی کے لیے ہائی الرٹ کا سلسلہ تاحال قائم ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس