ڈرون حملہ: امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملہ: امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان کی نئی حکومت نے ڈرون حملے پر احتجاج کے لیے امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ امریکی سفیر رچرڈ اولسن اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھے۔

نواز شریف کے مشیر طارق فاطمی نے وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہفتہ آٹھ جون کو امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور جمعے کے ڈرون حملے پر ان سے شکایت کی۔ پاکستانی حکومت کے بیان کے مطابق اس وقت امریکی سفیر رچرڈ اولسن ملک میں موجود نہیں تھے۔

ہوگلینڈ کی دفتر خارجہ طلبی کے حوالے سے اس بیان میں مزید کہا گیا: ’’ڈرون حملے فوری طور پر روکنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی مشترکہ خواہش پر یہ ڈرون حملے منفی اثر ڈالتے ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے اپنے ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں اور اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست کی کیونکہ وہ سفارتی بات چیت کو عام کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

Pakistan Vereidigung von Permier Nawaz Sharif

نواز شریف حالیہ انتخابات میں اپنی پارٹی کی جیت کی بدولت وزیر اعظم بنے ہیں

پاکستان کی نئی حکومت نے چند روز پہلے ہی اقتدار سنبھالا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ڈروں حملے کے تناظر میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی ٹیم ایسے حملوں کے خاتمے کی کوششوں کے ذریعے اپنا وعدہ نبھانا چاہتی ہے۔

نواز شریف طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملے روک دینے چاہیئں۔ ان کے مطابق ان حملوں سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوتی ہے، ان میں شہری اکثر ہلاک ہوتے ہیں اور ان سے ملک میں امریکا مخالف جذبات کو ہوا ملتی ہے۔

دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ ڈرون حملوں میں بنیادی طور پر دہشت گرد گروہ القاعدہ کے افراد اور دیگر شدت پسند ہلاک ہوتے ہیں۔

سیاسی اور قانونی امور کے تجزیہ کار بابر ستار نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کو عسکری اور فلاحی امداد کی مد میں کثیر رقوم دے چکا ہے اور اس جیسے طاقتور حلیف ملک کے ساتھ نواز شریف کو توازن برقرار رکھنا پڑے گا۔

جمعہ سات جون کو افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے سرحدی علاقے میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق اس کے نتیجے میں سات مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ نواز شریف اور ان کی کابینہ کی جانب سے اپنے عہدوں کے حلف اٹھانے کے دو روز بعد ہوا۔

ng/aba(AP)