1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد میں گرینڈ جرگہ

امریکی ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف اسلام آباد میں منعقدہ گرینڈ جرگے کے شرکاء نے اقوام متحدہ سے ان حملوں کو فوراً بند کرانے کی اپیل کی ہے۔

default

تحریک انصاف کے بانی عمران خان

جمعے کے روز سے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس جرگے کی صدارت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کی جبکہ شرکاء میں بڑی تعداد قبائلی عمائدین کی تھی۔ اس جرگے کی خاص بات عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کی موجودگی تھی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جمائما معصوم قبائلی بچوں اورعورتوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان آئی ہیں۔ جرگے میں شریک قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ 2004ء سے شروع ہونے والے ڈرون حملوں میں عورتوں اور بچوں سمیت سینکڑوں بے گناہ قبائلی بھی مارے گئے ہیں۔

Anti Terror Arbeit der USA Drohne Flash-Galerie

ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی

جرگے میں ایک مشترکہ قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں پھر بھی ڈرون حملوں کے نتیجے میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اس قرارداد میں ڈرون حملوں کا ذمہ دار امریکی سی آئی اے کو قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سے اپیل کی گئی کہ وہ امریکی اجارہ داری اور قبائلی عوام کا قتل عام ختم کرائیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان بھی ان حملوں میں برابر کی شریک ہے ۔ انہوں نے کہا،’’یہ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور میں ان سب کا ذمہ دار اپنی حکومت کو ٹھہراتا ہوں جنہوں نے ڈرون حملوں کی اجازت دی ہوئی ہے۔ دنیا میں کوئی حکومت اتنی منافقت نہیں کرتی کہ عوام سے جھوٹ بولے کہ ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور اندر سے ان کو اجازت دے رکھی ہے۔‘‘

Imran Khan another view Pakistan. Foto Abdul Sabooh Januar 2010

جرگے کی صدارت عمران خان نے کی جبکہ شرکاء میں بڑی تعداد قبائلی عمائدین کی تھی

جرگے میں شریک برطانوی فلاحی ادارے ’ریپریو‘سے تعلق رکھنے والے امریکی وکیل کلائیو سمتھ کا کہنا تھا کہ وہ امریکی ہونے کی حیثیت سے ڈرون حملوں پر پاکستانی عوام سے معافی مانگتے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ ڈرون حملوں میں صرف شدت پسند مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’امریکہ نے حال ہی میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ڈرون حملوں میں معصوم لوگ نہیں مارے گئے۔ میں اس بات پر ایک منٹ کے لیے بھی یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہمارا کام اس بات کا تعین کرنا ہے کہ سچ کیا ہے اور پھر ہمارا کام یہ سچ مغربی میڈیا تک پہنچانا ہے۔‘‘

جرگے میں منظور کی گئی مشترکہ قرارداد میں چیف جسٹس سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ڈرون حملوں کی تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مہیا کیا جائے۔ جرگے میں ان ڈرون حملوں کے ٹکڑے دکھائے گئے جو امریکہ کی جانب سے مختلف مواقع پر قبائلی علاقوں پر داغے گئے۔

دریں اثناء عمران خان کی سربراہی میں سینکڑوں افراد نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس