1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، پاکستان

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں سے منفی نتائج برآمد ہوں گے اور ان کی حکومت واشنگٹن انتظامیہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

یوسف رضا گیلانی نے یہ بات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہی، جو براہ راست نشر کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان ایک ذمہ دار جوہری طاقت ہے، جو امریکی ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے کوئی غیرذمہ دارانہ قدم نہیں اٹھا سکتی۔ لیکن ہم پراعتماد ہیں کہ ایک دِن ہم دنیا اور امریکہ کو یہ حملے روکنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان حملوں سے انتہاپسندوں پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے وکی لیکس کے حالیہ انکشافات پر اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈرون حملوں کی منظوری نہیں دی۔

خیال رہے کہ افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شدت پسند تھے۔ نئے سال کے آغاز پر بھی شمالی وزیرستان میں ایسے ہی حملے ہوئے ہیں، جن میں درجن بھر سے زائد مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔

دوسری جانب امریکہ ایسے حملوں کی تردید یا تصدیق نہیں کرتا۔ تاہم یہ نکتہ اہم ہے کہ اس خطے میں بغیرپائلٹ کے یہ طیارے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے ہی کے پاس ہیں۔

US Drone Predator Flash-Galerie

امریکہ ڈرون حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کرتا

امریکہ پاکستان کے اس قبائلی علاقے کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ قرار دیتا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبان، القاعدہ اور ان سے وابستہ اسلام پسند گروہ اسی علاقے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج پر حملوں اور دیگر ممالک میں دہشت گردی کے منصوبے باندھتے ہیں۔

گزشتہ برس کے آخری مہینوں میں یورپی شہروں میں ممبئی طرز کے حملوں کی خبروں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئے جانے والے ڈرون حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔

اپنے تازہ نشریاتی انٹرویو میں یوسف رضا گیلانی نے توہین رسالت پر پاکستان کے متنازعہ قوانین پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے گزشتہ برس کے آخری روز کی گئی ہڑتال بلاجواز تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان قوانین میں ترمیم کے لئے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

Familie von Asia Bibi Pakistan

آسیہ بی بی کی بیٹیاں اور شوہر

پاکستانی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ توہین رسالت کے قوانین کے ناجائز استعمال پر اقلیتوں کے تحفظات پیش نظر رکھے جائیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے لئے توہین رسالت ہی کے الزام میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے، جس کے بعد ملک کے یہ قوانین ایک مرتبہ پھر زیر بحث ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس