1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملوں کا دائرہ کار بڑھایا نہیں جا سکتا، پاکستان

پاکستان نے اپنی سرزمین پر ڈرون حملوں کا دائرہ کار بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق امریکہ کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیاں خود کرے گا۔

default

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا ہے، ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم امریکہ کے اتحادی ہیں، لیکن پاکستان اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔’

انہوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ پاکستانی علاقے میں ڈرون حملوں کا دائرہ کار بڑھانے کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جمعہ کو ایک رپورٹ شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ پاکستانی حدود میں ڈرون حملوں میں توسیع چاہتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے نامعلوم پاکستانی اور امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ ڈرون حملوں کا دائرہ کار پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقوں تک بڑھانا چاہتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت اسی علاقے میں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھی ڈرون حملوں کا دائرہ کار بڑھانا چاہتی ہے۔

تاہم عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کی کوئٹہ تک توسیع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کو قبائلی علاقوں سے آگے بڑھانے کے بجائے امریکہ کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے اور ایسے حملے بالکل بند کر دینے چاہیئں۔

خیال رہے کہ امریکہ پاکستانی علاقوں میں کئے جانے والے ڈرون حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کرتا۔ تاہم اس خطے میں بغیرپائلٹ والے ایسے طیارے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے زیراستعمال ہی ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران افغانستان کی سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بڑھائے گئے ہیں۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے القاعدہ اور اس کی اتحادی اسلام پسند تنظیموں کے خلاف انتہائی مؤثر ہیں۔

US Drone Predator Flash-Galerie

اس خطے میں ڈرون طیارے سی آئی اے ہی کے زیر استعمال ہیں

ایسے حملوں میں پاکستانی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود سمیت متعدد اہم شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کی یہ پالیسی پاکستانی عوام میں بھی بے حد غیرمقبول ہے۔ اسلام آباد بارہا اس مؤقف کا اظہار کر چکا ہے کہ ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں بنتا بلکہ ان سے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقے کو القاعدہ کے ہیڈکوآرٹرز کے طور پر دیکھتے ہوئے، اسے دنیا کا خطرناک ترین خطہ قرار دیتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس