1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون حملوں میں اضافہ CIA کی مہم میں تیزی کا نتیجہ

امریکی فوج افغانستان میں اپنے ڈرون طیاروں کو خفیہ طور پر زیادہ سے زیادہ حد تک ہمسایہ ملک پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف اس فضائی کارروائی کے لئے مہیا کرنے لگی ہے، جس کی سربراہی امریکی خفیہ سروس CIA کر رہی ہے۔

default

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے ہفتے کے روز لکھا کہ افغانستان میں امریکی فوج نے Predator اور Reaper طرز کے کئی ڈرون طیارے اس لئے CIA کے حکام کے حوالے کر دئے ہیں کہ وہ افغانستان کے پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقے اور پاکستان قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے زیادہ سے زیادہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکیں۔

اس اخبار نے نام لئے بغیر اعلیٰ امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتے کے روز لکھا کہ CIA ستمبر کے مہینے میں پاکستان میں ڈرون حملوں میں اتنا اضافہ کر چکی تھی کہ ان کی ہفتہ وار اوسط پانچ سے بھی زیادہ بنتی تھی۔ ستمبر کے مہینے سے پہلے تک پاکستانی علاقوں میں ایسے امریکی حملوں کی ہفتہ وار اوسط دو یا تین سے زیادہ نہیں تھی۔

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ستمبر میں ڈرون حملوں کی شرح میں واضح اضافہ اس وجہ سے بھی کیا گیا کہ دہشت گردوں کے ان مبینہ منصوبوں کو زیادہ سے زیادہ حد تک ناکام بنا دیا جائے جو وہ مختلف یورپی ملکوں میں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

Hakimullah Mehsud Taliban Tehrik e Taliban

تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ کے پیش رو بیت اللہ محسود کو بھی ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا

ابھی حال ہی میں یہ تفصیلات سامنے آئیں تھیں کہ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ نے کئی یورپی ملکوں میں نئے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کی منظوری جرمن ہفت روزہ جریدے ’ڈیئر شپیگل‘ کے مطابق القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن نے ذاتی طور پر دی تھی۔ اس منصوبہ بندی کے تحت برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی ملکوں میں حملوں کا پلان بنایا گیا تھا۔

وال سٹریٹ جرنل نے بغیر نام لئے اعلیٰ امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ہفتے کے روز کی اشاعت میں یہ بھی لکھا کہ اگر مغربی دنیا میں کسی جگہ پر پاکستان سے کامیاب دہشت گرانہ حملہ کیا گیا تو اس کے ردعمل میں امریکی مسلح افواج پاکستان کے خلاف یکطرفہ کاروائی بھی کر سکتی ہیں۔

امریکی فوج کی طرف سے کئی ڈرون طیارے CIA کے حوالے کئے جانے کے بارے میں وال سٹریٹ جرنل نے لکھا کہ یہ ڈرون تیار کرنے والے دفاعی پیداواری ادارے اتنی تیز رفتاری سے بغیر پایلٹ کے پرواز کرنے والے یہ جاسوس طیارے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ پینٹاگون اور CIA کی اب بہت زیادہ ہو جانے والی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

ستمبر کے مہینے میں امریکی ڈرون طیاروں سے پاکستانی علاقوں میں کل دو درجن کے قریب میزائل حملے کئے گئے تھے، جن میں پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق تقریبا دو سو افراد مارے گئے تھے۔ ڈرون حملوں کی یہ ماہانہ تعداد پاکستان میں 2004 سے جاری ایسے فضائی حملوں کی آج تک کی سب سے زیادہ ماہانہ تعداد بنتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس