1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ڈرونز سے چھٹکارہ تربیت یافتہ عقابوں سے

ڈچ پولیس نے ڈرونز کی وجہ سے عوامی سلامتی کو لاحق خدشات کے تدارک کے لیے تربیت یافتہ عقابوں کے استعمال کا کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ڈرونز اڑانے والے غیرتربیت یافتہ افراد کی وجہ سے عوام کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

ہالینڈ کی قومی پولیس کے ترجمان ڈینیس ژانوس کے مطابق، ’’ہائی ٹیک کا حل لو ٹیک ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غیرتربیت یافتہ افراد عوامی تقریبات، سیاست دانوں کے جلسوں اور ہوائی اڈوں کے قریب یہ ڈرون اڑاتے ہیں، جس سے کئی طرح کے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ان کے تدارک کے لیے ڈچ پولیس متعدد طریقے استعمال کرنے کا سوچ رہی ہے، جن میں کسی غیرضروری ڈرون کو جال میں پھنسانا اور انہیں ہیک کر لینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف حملہ آور پرندوں یعنی عقابوں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

Flash Galerie Tiere

عقابوں کے لیے ڈرونز گرانا کوئی بڑی بات نہیں

ژانوس کا کہنا ہے، ’’لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ افواہ ہے، مگر اب تک یہ طریقہ انتہائی کارآمد رہا ہے۔‘‘

پولیس کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جس میں جلتی بجھتی بتیوں کے حامل چار ٹانگوں والا ایک ڈرون اڑتے دکھائی دیتا ہے اور ایسے میں سفید دم والا ایک عقاب چھوڑا جاتا ہے، جو سیدھا اس ڈرون کو جا دبوچتا ہے اور ٹھک کی آواز کے ساتھ ہی یہ ڈرون زمین پر آن گرتا ہے۔

اس سلسلے میں ’فضائی تحفظ‘ نامی کمپنی مقامی پولیس کے ساتھ مل کر اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے۔ اس کمپنی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ عقاب لازمی طور پر تربیت یافتہ ہونا چاہیئں تاکہ ڈرونز کو پہچان سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہر بار ڈرون پر کامیابی سے حملہ آور ہونے والے عقابوں کو بدلے میں گوشت کا ایک ٹکڑا بطور انعام ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان عقابوں کے پنجے مضبوط ہیں اور اس کے ذریعے یہ عام صارفین کے زیراستعمال ڈرونز کو بآسانی مار گراتے ہیں جب کہ خود بھی ان ڈرونز کے پنکھوں سے زخمی نہیں ہوتے۔ اس کمپنی کے اعلان کے مطابق یہ عقاب جانوروں پر حملہ آور ہوتے تھے تو انہیں مزاحمت کا سامنا ہوتا تھا، تاہم ڈرونز کے سلسلے میں انہیں کوئی خاص محنت نہیں کرنا پڑتی۔