1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ڈرامہ شاہی تھیٹر میں لیکن مہاجر اداکاروں کو ملک بدری کا خوف

ڈنمارک میں کوپن ہیگن کے رائل تھیٹر میں ایک آئندہ ڈرامے کے ٹکٹ تو سارے ہی بک چکے ہیں لیکن منتظمین کو ایک عجیب ہی مسئلہ درپیش ہے۔ خطرہ ہے کہ ڈرامے کے مہاجر اداکار اسٹیج پر آنے سے پہلے ہی ملک بدر کر دیے جائیں گے۔

ڈنمارک کے اس شاہی تھیٹر میں جو ballet پیش کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے، اسے Uropa - An asylum-seekers' ballet یا ’یورپ، پناہ گزینوں کا ایک رقص‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس تمثیلی رقص میں چھ تارکین وطن کو اپنی داستان ’جسمانی اعضاء کی زبان‘ میں پیش کرنا ہے۔

اس کھیل کے پیش کاروں کو امید ہے کہ وہ تین ہفتوں تک جاری رہنے والے اس ڈرامے کی مدد سے ایک ایسے ملک میں تارکین وطن کے بارے میں سوچ کافی حد تک تبدیل کر سکیں گے، جہاں حال میں سیاسی پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں سے متعلق قوانین اور بھی سخت کر دیے گئے ہیں۔

اس ڈانس پلے میں پاکستان، شام اور ایران جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اپنی دردناک داستانیں بیان کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں کہ کس طرح انہیں ظلم و ستم اور جنسی جرائم تک کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔

شام کے شہر حمص سے تعلق رکھنے والا بتیس سالہ سلام سوسو بھی اس ڈرامے کا حصہ ہے۔ علم موسیقی کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے والے اس طالب علم کا کہنا ہے، ’’ریہرسل کے دوران اپنے ذاتی مسائل کے بارے میں جذبات کو قابو میں رکھ کر گفتگو کر سکنا دشوار ترین مرحلہ ہے۔‘‘

سوسو اور اس کی خاتون دوست کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس ڈرامے کے پیش کیے جانے سے چند دن پہلے ہی انہیں بتا دیا گیا تھا کہ ان کی ڈنمارک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور ہو گئی ہیں۔ لیکن باقی اداکاروں کے سروں پر ابھی تک ملک بدری کی تلوار لٹک رہی ہے۔

ڈینش حکومت اس ڈرامے کے ابتدائی طور پر دس اداکاروں میں سے دو کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔ ان میں سے ایک تو حکام کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے کہیں روپوش بھی ہو گیا ہے۔ اسی طرح ایران سے تعلق رکھنے والے ایک فنکار مہیار پورحسابی کو مہاجرین سے متعلق یورپی یونین کے ڈبلن معاہدے کے تحت ڈنمارک سے فرانس بھیج دیا گیا ہے۔ پورحسابی اب ایک ویڈیو لنک کے ذریعے اس ڈرامے میں حصہ لے رہا ہے۔ اس دوران یہ ایرانی تارک وطن بتاتا ہے کہ اب وہ پیرس کی سڑکوں پر کس دشواری سے اپنے شب و روز بسر کر رہا ہے۔

ایک پینتالیس سالہ ہم جنس پرست علی اسحاق بھی اس ڈرامے کا ایک کردار ہے۔ اسحاق کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ خود کلامی کے ذریعے اجتماعی زیادتی کا ایک بھیانک واقعہ ناظرین کے سامنے پیش کرتا ہے، جس کے بعد وہ پاکستانی معاشرے میں مردوں کی بالادستی اور اسلام سے متعلق بھی گفتگو کرتا ہے۔

علی اسحاق اسٹیج پر تو ہم جنس پرست پاکستانیوں کو درپیش معاشرتی مشکلات کی وضاحت کرتا ہے لیکن آف اسٹیج اس کا کہنا ہے، ’’ڈنمارک میں بھی مجھے پاکستانی برادری کی طرف سے اسی طرح کے منفی رویوں کا سامنا ہے۔‘‘

Dänemark Ballett von Afghanistan Veteranen in Kopenhagen

ڈانس پلے میں پاکستان، شام اور ایران جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اپنی دردناک داستانیں بیان کرنے کی تیاریاں کر رہے

اسحاق نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’میں نے اپنے انسانی حقوق کی خاطر ڈنمارک میں پناہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دیگر مہاجرین میں سے چند پاکستانی تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں ان کے قدامت پسند سماجی رویوں کی وجہ سے مسترد نہیں کی جانا چاہییں۔

اسحاق نے ڈنمارک میں پناہ کی درخواستیں دینے والے اپنے ایسے ہم وطن افراد کے بارے میں کہا، ’’ہو سکتا ہے کہ انہیں بھی کوئی سماجی یا سیاسی مسئلہ درپیش رہا ہو۔ ممکن ہے کہ وہ واپس پاکستان جائیں تو انہیں بھی جان کا خطرہ ہو۔ میری رائے میں ان کی درخواستیں بھی منظور کی جانا چاہییں۔‘‘

اس اسٹیج پلے کے ڈائریکٹر کرسٹیان لولیکے کا ڈرامے کے مقصدیت کے بارے میں کہنا ہے، ’’مجھے امید ہے کہ اس ballet کے ذریعے لوگوں کو ایک مختلف نقطہ نظر سے یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ ’پناہ گزین‘ ہونے کا مطلب کیا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ ڈنمارک پہنچنے والے یہ تارکین وطن اپنے تکلیف دہ تجربات ڈرامے کی صورت میں لیکن اپنی زبانی بیان کریں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اس کام کے لیے رائل ڈینش تھیٹر ایک نایاب موقع ہے۔‘‘